جالے،محمد رفیع ساگر : مدرسہ اسلامیہ بہٹا، بینی پٹی میں سالانہ اختتامی انعامی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کی سرپرستی مولانا رضوان احمد قاسمی نے کی، جبکہ نگرانی کے فرائض مولانا عزیر قاسمی اور محمد نسیم نے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز قاری ہدایت اللہ کی تلاوت سے ہوا، جس کے بعد قاری اشفاق کریمی، حافظ فصیح اللہ بہٹاوی اور حافظ ارمان نے بارگاہِ رسالت میں نعتیہ کلام پیش کیے۔ نظامت کے فرائض مولانا پرویز مظاہری نے بخوبی انجام دیے۔صدارتی خطاب میں مولانا رضوان احمد قاسمی نے قرآن کریم کی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ وہ کتاب ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے، کیونکہ اس کی تعلیمات فطرت سے ہم آہنگ اور ہر زمانے کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ جس عمل کی تعریف کی ہے، وہ قرآن کو پڑھنا اور پڑھانا ہے۔ یہ کتاب جہاں انسان کے روحانی ارتقا کی ضامن ہے، وہیں اس میں دنیاوی کامیابیوں کے بھی روشن اصول موجود ہیں۔انہوں نے امت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن کو محض پڑھنے اور سننے کی حد تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔ یہ کتاب نہ صرف ہماری انفرادی زندگی کی اصلاح کرتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر ایک صالح اور پرامن معاشرے کے قیام کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔ اگر ہم اس کتاب کو اپنا رہنما بنائیں، تو ہماری زندگیاں سنور سکتی ہیں اور ہماری نسلیں محفوظ رہ سکتی ہیں۔دارالعلوم سبیل الفلاح جالے کے معتمد عامہ مولانا مظفراحسن رحمانی اور مولانا عنایت اللہ قاسمی نے مدارس اسلامیہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدارس کی مثال پاور ہاؤس کی ہے، جہاں سے دین کی روشنی پوری امت میں پھیلتی ہے۔ جب تک یہ ادارے باقی رہیں گے، اسلام کی حقیقی شکل محفوظ رہے گی۔ مولانا شاہد حسین قاسمی نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ماں ہی وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں ایک نسل کی بنیاد رکھی جاتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مائیں اپنے بچوں کی اسلامی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دیں۔مولانا نصراللہ قاسمی نے اپنے کلیدی خطاب میں مدارس اسلامیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مدارس کے وجود سے انسانیت کا وجود ہے، کیونکہ یہی ادارے معاشرے میں دینی اور اخلاقی اقدار کی بقا کا ذریعہ ہیں۔ مولانا سہیل احمد قاسمی نے قرآن کی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس کی تعلیمات پر عمل کیے بغیر نہ دنیا کی فلاح ممکن ہے اور نہ آخرت کی کامیابی۔مولانا سمیع اللہ ندوی نے مکاتب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مکاتب وہ بنیاد ہیں جن پر مضبوط دینی تعلیم کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ مدرسہ کے ناظمِ اعلیٰ اویس عرفانی نے کہا کہ قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔پروگرام میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا اور انہیں مزید محنت کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اس موقع پر معزز علما، اساتذہ، طلبہ اور والدین کے علاوہ مولانا افضل، مولانا یعقوب قاسمی، مفتی مشتاق مرزا پوری، مولانا سہیل، مولانا شکیل، حافظ سہیل اختر، قاری عبد الجبار، مولانا صدام، محمد غفران، حافظ قیصر، حافظ اصغر، مولانا جاوید اختر حلیمی وغیرہ موجود تھے۔پروگرام کا اختتام صدر اجلاس کی دعا پر ہوا۔ 











