حاجی پور،25 فروری (نمائندہ): مدرسہ اشرف العلوم مرادآباد میں اس سال وسطانیہ کا امتحان نہایت صاف و شفاف ماحول میں 22 فروری سے جاری ہے۔ امتحان مرکز پر سخت نگرانی اور بہتر انتظامات کی وجہ سے بدعنوانی کا مکمل خاتمہ کیا گیا ہے، جسے تعلیمی ماہرین اور والدین نے خوب سراہا ہے۔ مدرسہ کے پرنسپل ابوبکر صدیقی کے مطابق اس بار امتحان کے دوران نقل کے رجحان کو مکمل طور پر روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ہیں، امتحان مراکز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو روکنے کے لیے سخت چوکسی برتی گئی ہے۔صدر مدرس نے واضح کیا کہ امتحان میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا نقل کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، بلکہ طلبہ کو ان کی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے رہا ہے۔امتحان میں شریک طلبہ و طالبات نے کہا کہ صاف اور منصفانہ ماحول میں امتحان دینا ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ والدین اور مقامی سماجی کارکنوں نے مدرسہ انتظامیہ اور امتحان نگراں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات مدارس کی تعلیمی وقار کو مزید مضبوط کریں گی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ امتحان کے کامیاب انعقاد کے لیے مدرسے کے اساتذہ، عملہ اور دیگر ذمہ داران مکمل مستعدی کے ساتھ فرائض کو انجام دے رہے ہیں۔ جن میں خاص طور سے ماسٹر محمد صابر حسین، حافظ و قاری اصغر علی، ماسٹر محمد شوکت صدیقی، ماسٹر محمد ذاکر صدیقی، حافظ و مولانا شیر علی، مولانا کمال الدین فیضی، مولانا قیام الدین مصباحی اور مولانا صدر عالم ندوی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔آخر میں مدرسہ اشرف العلوم کے پرنسپل ابوبکر صدیقی نے کہا کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے صاف و شفاف امتحانی نظام کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ علم کے معیار کو بلند کیا جا سکے۔ اور مدارس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا جا سکے۔











