
بہارشریف(مرشد دسنوی) ریاستی طور پر انتہائی مشہور و مقبول و منفرد شعری و ادبی تنظیم”بزم اتحاد نالندہکی193 ویں ماہانہ طرحی نشست زیر صدارت معروف ادیب و شاعر بےنام گیلانی و زیر نقابت معروف و جواں سال شاعر تنویر ساکت بہ مقام بدولت کدہء پروفیسر آسیہ پروین صاحبہ صدر شعبئہ اردو،نالندہ مہیلا کالج،محلہ عماد پور بہارشریف بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ مذکورہ نشست کے لئے مصرعہء طرح جان جائے گی مگر ہم نہیں جانے والے تھا جس کے شاعر کا نام نامی لالہ مادھو رام جوہر ہے۔شاعر موصوف کا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔شاعر مصرعہ طرح کا اصل نام مادھو رام اور تخلص جوہر ہے۔اپ کا سن پیدائش 1810 ہے۔موصوف کی پرورش و پرداخت و تعلیم و تربیت ایک متمول خاندان میں ہوئی۔اپ موصوف کی جائے رہائش پر شعراء و ادباء کی کثرت سے تشریف آوری ہوا کرتی تھی۔جوہر کے استاذ محترم و مکرم کا نام نامی منیر شکوہ آبادی ہے جن کے زیر سایہ جوہر نے مدتوں مشق سخن کیا اور تربیت زندگی حاصل کی۔اخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے آخری ایام حکومت میں جوہر کو مختار شاہی کے معزز عہدے پر فائز کیا گیا۔1857 کی جنگ آزادی میں محبان وطن کی حمایت کرنے کی پاداش میں اہل فرنگ۔آپ کی تمام جائداد ضبط کر لی۔بالاخر آپ 1890 میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔جوہر کا دیوان 1902 میں آپ کے فرزند ارجمند شیو پرساد جوہری نے حسین پریس فتح گڑھ سے شائع کروایا۔اس دفعہ مذکورہ نشست میں مہمان خصوصی کے طور پرویز انجم صدر شعبئہ فارسی نالندہ مہیلا کالج بہارشریف رہے۔بزم اتحاد نالندہ کی یہ خصوصیت و انفرادیت ہے کہ اس کی نشستوں میں ہندی،مگدھی، بھوجپوری زبان کے شعراء و ادباء بھی معمول کے مطابق شامل ہوتے رہے ہیں۔جس سے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو تقویت حاصل ہوتی رہی ہے اور وطن کی لسانی و مذہبی ہم آہنگی کو استحکام حاصل ہوتا رہا ہے۔بزم اتحاد نالندہ کی یہ دیرینہ روایت رہی ہے کہ اس کی نشستوں میں مختلف زبانوں کے شعراء کرام کے علاوہ بیرون اضلاع و ریاست کے شعراء کرام بھی شرکت فرماتے رہے ہیں۔ نشست کے باضابطہ اغاز سے قبل ناظم تنویر ساکت نے اردو زبان کے حوالے سے جو غلط بیانی اور منافرت پھیلائی جا رہی ہے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ جو اردو کو تعصب کے چشمے سے دیکھتے ہیں یہ ان کی کم علمی اور کم ظرفی کی علامت ہے۔اردو کی مخالفت کا مطلب جنگ ازادی کے مجاہدین اور شہداء کی مخالفت ہے۔اردو ملک عزیز کے وطن کی مٹی سے جنمی ہے اور یہاں کے ذرے ذرے میں اس کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔اردو عشق و محبت کی زبان ہے۔یہ دلوں کو جوڑنے والی زبان ہے۔وہیں جنرل سیکرٹری غفران نظر نے کہاکہ اردو کی ابتدا کھڑی بولی سے ہوئی ہے جو دہلی کے گرد و نواح میں بولی جاتی تھی لہذا اسے غیر ملکی سمجھنا یا اس سے ملوں کی زبان کہنا جہالت کے مترادف ہے۔ تطرحی کلام سے قبل ڈاکٹر پرویز انجم نے اپنے مترنم اواز میں ایک خوبصورت نعت پاک پیش کیا جسے خوب پسند کیا گیا۔اس کے بعد مشاعرے کا باضابطہ آغا ہوا جس میں درج ذیل شعراء کرام نے اپنے پر مغز اور فصیح و بلیغ کلام سے سامعین کو محظوظ فرمایا۔











