
بہارشریف(محمد راشد عالم) مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان آئیندہ دو مارچ سے شروع ہونے جا رہا ہے۔اس مہینہ میں مسلمان دن کو روزہ رکھتے ہیں اور شام کو افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔عرصے دراز سے ریاست بہار میں یہ روایت رہی ہے کہ رمضان کے دنوں میں مسلم اساتذہ کو اسکول کے نظام الاوقات میں ایک گھنٹے کی تخفیف کرتے ہوئے انہیں چھٹی سے ایک گھنٹہ قبل اسکول چھوڑنے کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔اس کے علاوہ اردو اسکولوں میں رمضان مارننگ شفٹ میں چلائے جاتے رہے ہیں جسے گزشتہ برس تعصب کی بنیاد پر فرقہ پرست عناصر کے دباؤ میں اس روایت کو ختم کر دیا گیاجس سے اقلیتوں اور اردو آبادی میں غم و غصے کی لہر پائی جا رہی ہے۔رمضان کے مہینے میں مسلم اساتذہ اور اردو اسکولوں کو جو سہولت فراہم کرائی جاتی تھی اس سے روزہ دار کافی اطمینان محسوس کرتے تھے اور افطار تک اپنے گھر پہنچ کر چین و سکون سے افطار کرتے اور نماز بھی ادا کرتے تھے۔بطور خاص یہ ہاں خواتین اساتذہ کو افطار کے انتظام و انصرام کے لیے وقت فراہم ہو جاتا تھا۔مگر امسال صوبائی سطح پر مرتب تعطیل نامہ میں رمضان کے تعلق سے قبل از وقت اسکول چھوڑنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جس سے مسلم اساتذہ میں کافی پریشانی دیکھی جا رہی ہے۔خاص طور سے خواتین اساتذہ فکرمند ہیں کیونکہ انہیں گھر والوں کے لیے بھی افطار کا انتظام و انصرام کرنا ہوتا ہے ایسی صورت میں اگر انہیں قبل از وقت فرصت نہیں دی جاتی ہے تو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔لہذا اردو اساتذہ تنظیم کے صدر تنویر ساکت،سرپرست تنگ ایوبی،نائب صدر ساجد اقبال،سیکرٹری اعجاز احمد وغیرہ نے مشترکہ طور پر حکومت بہار اور محکمہ تعلیم کہ ذمہ دار ان سے مخلصانہ اپیل کی ہے کہ رمضان المبارک کے پیش نظر مسلم اساتذہ کو رمضان میں اسکول کے نظام الاوقات میں تخفیف کرتے ہوئے چھٹی سے ایک گھنٹہ قبل اسکول سے فرصت دینے اور اردو اسکولوں کو مارننگ شفٹ میں چلانے کے متعلق حکم نامے اور مکتوب جاری کیے جائیں۔تاکہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ مسلم طلبہ و طالبات کو بھی سہولت مل سکے کیونکہ اکثر و بیشتر طلبہ و طالبات بھی روزہ رکھتے ہیں۔امید ہے اس پر محکمہ تعلیم اور اقلیت نواز وزیراعلی جناب نتیش کمار سنجیدگی سے غور وخوض فرمائیں گے اور اس کے متعلق حکم نامے جاری کیے جائیں گے-











