
سہرسہ(سالک کوثر امام)ایم ایل اے چودھری یوسف صلاح الدین نے سہرسہ ضلع کے تحت سمری بختیار پور سب ڈویژن کے پہاڑ پور بازار میں جدید سہولیات سے آراستہ "الشفاء عبدالکریم میموریل اسپتال” کا فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ایم ایل اے یوسف صلاح الدین نے کہا کہ یہاں علاج معالجے کی کوئی بہتر سہولت نہیں تھی اس لیے حاجی کلیم صاحب نے ایک بہتر ہسپتال کھول کر انتہائی قابل تحسین کام کیا ہے جس کے لیے وہ دلی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ضلع پریشد نمائندہ معروف عالم نے اس ہسپتال کو ایک شاندار کارنامہ قرار دیتے ہوئے حاجی کلیم کو مبارکباد پیش کی اور جہاں ضرورت پڑی ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں صحافی وجیہ احمد تصور نے کہا کہ کسی بھی علاقے کی ترقی کا تعین سفری سہولتوں، صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے ہوتا ہے اور افسوس کا مقام ہے کہ وہاں نہ تو تعلیم کے لیے اعلیٰ معیار کے ادارے ہیں اور نہ ہی بہتر علاج کے لیے ہسپتال ہیں۔ انہوں نے اسٹیج پر موجود ایم ایل اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نوجوان ہیں، آپ میں جوش اور جذبہ ہے، ان دونوں علاقوں کی ترقی کی طرف توجہ دیں اور اسپتالوں میں اچھے ڈاکٹر لائیں تاکہ یہاں کے لوگ علاج کے لیے سہرسہ، پورنیہ، پٹنہ جانے سے بچ جائیں۔ انہوں نے حاجی کلیم کو ایک اچھا ہسپتال کھولنے پر مبارکباد دی۔تنظیم امام مسجد کے صدر حافظ ممتاز رحمانی نے کہا کہ سمری بختیار پور میں ایک ریفرل ہسپتال ہے لیکن اچھے ڈاکٹر کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ جو ڈاکٹر بہتر ہیں وہ اکثر باہر ہی رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگوں خصوصاً غریبوں کو علاج کے لیے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن حاجی کلیم صاحب نے الشفاء عبدالکریم میموریل ہسپتال کھول کر یہاں کے لوگوں کو ایک تحفہ دیا ہے جس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے ایم ایل اے سے بھی درخواست کی کہ وہ سرکاری اسپتال میں اچھے ڈاکٹر لانے کی طرف توجہ مبذول کریں۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بی این منڈل یونیورسٹی مدھے پورہ کے سینئر استاد پروفیسر ابوالفضل نے کہا کہ پہاڑ پور میں اسپتال کا افتتاح یہاں کی ایک بڑی آبادی کے لیے باعث فخر ہے۔ سمری بختیار پور میں اچھے ہسپتال اور ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو باہر سے علاج کروانے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر یہاں سے بڑی اور سنگین بیماریوں کا علاج شروع ہو جائے تو لوگ دونوں پریشانیوں سے بچ جائیں گے۔منڈل یونیورسٹی کے سینئر استاد اور کانگریس کے بلاک صدر پروفیسر امتیاز انجم نے اس اسپتال کے آغاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمری بختیار پور علاقہ میں جدید سہولیات سے آراستہ اسپتال کی بہت ضرورت تھی، جس کی کمی کو حاجی کلیم صاحب نے اس اسپتال کو کھول کر دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ہسپتال میں بہتر علاج کے ساتھ ساتھ علاج میں ایمانداری بھی ضروری ہے اور مریضوں سے صرف مناسب فیسیں اور قیمتیں وصول کی جائیں تاکہ غریب لوگ مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ہسپتال آنے والے وقت میں ایک مثالی ہسپتال بنے گا۔اس سے قبل پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ اسٹیج کی نظامت لطف الرحمان صمدانی نے کی۔ اس موقع پر حافظ محمد شکیل احمد، مولانا ضیاء الدین ندوی، مولانا سہراب عالم ندوی نے بھی خطاب کیا جبکہ نعت شریف پیش کرنے والوں میں ہندوستان کے مشہور شعراء اسد اعظمی، ساحل عمر، ابو سعد سہرساوی، دانش مبارک پوری، اسامہ ندوی، مہدی حسن اور اشرف علی ندوی شامل تھے۔اس موقع پر جن سوراج کے شمیم انور، رویندر کمار، مفتی ظل الرحمان قاسمی، سماجی کارکن محمد سعود عالم، سماجی کارکن فاتح منظر، کانگریس، پی اے سی ایس کے صدر محمد عدنان عالم، عبدالتواب، مفتی اعظم، صحافی جعفر امام قاسمی،عقیل احمد اعجاز امین سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔











