شام:شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کی باقیات پر زور دیا ہے کہ اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے، وہ اپنے ہتھیار اور اپنے آپ کو حوالے کر دیں۔
جمعے کی شام ایک ریکارڈ شدہ خطاب میں الشرع کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز بشار کی باقیات کا تعاقب جاری رکھیں گی تا کہ انھیں عدالتی کارروائی کے لیے پیش کیا جا سکے۔ شامی صدر نے باور کرایا کہ یہ عناصر ملک میں امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
احمد الشرع نے مزید کہا کہ "سابق نظام کی باقیات نے گھناؤنا کام کیا، انھوں نے شام کی حفاظت کرنے والوں کو قتل کیا، یہ ہر شامی پر حملہ ہے اور ایسا قصور ہے جو معاف نہیں کیا جا سکتا”۔ احمد الشرع کے مطابق نیا شام ایک اور متحدہ ہے … اس میں حکام اور عوام کے بیچ کوئی فرق نہیں ہے۔الشرع نے زور دیا کہ "ہتھیار کو ریاست کے ہاتھوں تک محدود رہنا چاہیے”۔ انھوں نے دھمکی دی کہ شہریوں کے خلاف تجاوز کرنے والے ہر شخص کا احتساب کیا جائے گا۔
شام میں حکام نے جمعے کے روز سابق صدر (الاسد خاندان) کے آبائی علاقے میں سیکورٹی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان ملک کے مغربی علاقے میں خون ریز لڑائی کے نتیجے میں 140 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (سانا) نے وزارت دفاع کے ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سیکورٹی فورسز القرادحہ شہر میں سابق صدر کی باقیات کے خلاف آپریشن کر رہی ہیں۔شام میں جنرل انٹیلی جنس کے ادارے کے سربراہ نے زور دیا ہے کہ شامیوں کے خون میں اپنے ہاتھ رنگنے والوں کے ساتھ درگزر کا معاملہ نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے مطلوب افراد پر زور دیا کہ وہ خود کو ہتھیاروں سمیت قریب ترین سیکورٹی ادارے کے حوالے کر دیں۔
ادھر شامی وزارت دفاع کے ترجمان حسین عبدالغنی کا کہنا ہے کہ شامی فوج لاذقیہ کے بیشتر علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ انھوں نے یہ بات العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے بیان میں بتائی۔
جمعے کے روز شام میں نئی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں عوام مظاہروں کے لیے نکلے۔یہ مظاہرے طرطوس اور لاذقیہ میں سیکورٹی آپریشن انجام دینے والی وزارت دفاع کی فورسز اور جنرل سیکورٹی فورسز کی تائید کے لیے تھے۔ دار الحکومت دمشق اور اس کے اطراف دیہی علاقوں میں ہزاروں افراد مظاہروں میں شریک ہوئے۔












