واشنگٹن (ہ س)۔ایسے وقت میں جب کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے چوتھے دور کی تاریخ تا حال غیر واضح ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی پالیسی کی "سرخ لکیر” واضح کر دی ہے۔ انھوں نے گذشتہ روز یہ دوٹوک اعلان کیا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان، ٹیمی بروس نے پیر کے روز "فوکس نیوز” کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی بم یا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ترجمان نے مزید کہا کہ اگرچہ ٹرمپ کا موقف سخت ہے، لیکن وہ تہران سے نمٹنے کے لیے نئی تجاویز سننے کے لیے تیار ہیں، اور چاہتے ہیں کہ جو بھی معاہدہ طے پائے وہ مستقل نوعیت کا ہو۔ ٹیمی کے مطابق ایرانی حکومت کو آخرکار ٹرمپ کے موقف کو سنجیدگی سے لینا پڑے گا، کیوں کہ اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر نے ایرانی فریق کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، اور وہ سفارتی راستے سے کسی حل تک پہنچنا چاہتے ہیں نہ کہ تصادم کی راہ اختیار کر کے۔ٹیمی بروس نے زور دیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران یا کسی اور ملک کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے کسی بھی آپشن کو مسترد نہیں کیا ہے، تمام امکانات زیر غور ہیں۔ اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی یکم مئی کو فوکس نیوز” کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ تہران کو یورینیم کی افزودگی، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی ترقی، اور یمن میں حوثیوں جیسے دہشت گرد گروہوں اور علاقائی ملیشیاؤں کی حمایت ترک کرنا ہو گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ تمام ایرانی جوہری تنصیبات، حتیٰ کہ فوجی مقامات تک بھی معائنہ کرنے کے لیے اپنی شمولیت چاہتا ہے۔ اس طرح انھوں نے مذاکرات کی وہ شرائط بیان کیں جن کا آغاز 12 اپریل کو ہوا تھا۔












