غزہ (ہ س)۔غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بدھ کو کہا ہے کہ جنگ سے تباہ حال فلسطینی علاقے میں سکول میں قائم بے گھر لوگوں کی پناہ گاہ پر اسرائیلی حملوں میں 31 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے حماس کے مزاحمت کاروں کو نشانہ بنایا ہے۔غزہ کے شہری دفاع کے میڈیا افسر احمد رضوان نے اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ کی پٹی کے وسط میں بوریج پناہ گزین کیمپ میں ’بے گھر افراد کو پناہ دینے والے سکول پر‘ اسرائیلی حملوں میں کل 31 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔دریں اثناء اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی افواج نے ’وسطی غزہ کی پٹی میں حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر‘ پر حملہ کیا جو’ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے‘ کے لیے استعمال ہوتا تھا۔یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب منگل کو غزہ پر وسیع حملے کے اسرائیلی منصوبوں کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی جس میں ملک کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ نے فلسطینی سرزمین کو ’تباہ‘ کر دینے کا مطالبہ کیا۔غزہ کے تقریباً تمام 2.4 ملین افراد جنگ کے دوران کم از کم ایک بار بے گھر ہو چکے ہیں۔منگل کے روز حماس نے اسرائیل پر غزہ میں "فاقوں کی جنگ” شروع کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جنگ بندی کے بے معنی مذاکرات کو مسترد کر دیا۔اسرائیلی فوج نے مارچ میں غزہ کی پٹی پر حملے دوبارہ شروع کر دیئے تھے۔ قبل ازیں دو ماہ کی جنگ بندی کے دوران علاقے میں امداد کی فراہمی میں اضافہ ہوا اور اسرائیل کے زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی تھی۔












