کابل (ہ س)۔ طالبان اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے کل ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے پر اتفاق کیا۔ این آر ایف ایک فوجی اتحاد ہے جو افغانوں کو طالبان کی جابرانہ حکمرانی کے خلاف متحرک کرتا ہے۔ اسے مزاحمتی محاذ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے لیڈر احمد مسعود ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان بدھ کی دو پہر صوبہ پروان میں حملوں کو روکنے کا معاہدہ طے پایا۔طلوع نیوز کے مطابق، اس پہلی ملاقات میں احمد مسعود کے حامیوں اور طالبان کے نمائندوں نے لڑائی روکنے کے آپشنز پر تبادلہ خیال کیا۔ این آر ایف کی بنیاد اگست 2021 میں احمد مسعود نے رکھی تھی۔ این آر ایف کے 12 رکنی وفد کی قیادت سابق مجاہدین کمانڈر الماس زاہد کر رہے تھے اور طالبان کے چھ رکنی وفد کی قیادت طالبان انٹیلی جنس کے ڈپٹی لیڈر محمد محسن ہاشمی کر رہے تھے۔اجلاس میں شریک این آر ایف کے رہنما محمد عالم ایزدیار نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ دونوں فریقین نے بات چیت کا دوسرا دور ہونے تک ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ ملاقات تقریباً تین گھنٹے کے بعد ختم ہوئی۔ دریں اثنا، طالبان کے وفد کے ایک رکن نے کہا کہ طالبان پنجشیر کے مسئلے پر بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن مسعود کے حامی مستقبل کی حکومت کی تشکیل پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔طالبان کے ثقافتی کمیشن کے ایک رکن انعام اللہ سمانگانی نے کہا کہ پنجشیر پر ہونے والی بات چیت کا محور گورننس سسٹم کے مجموعی ڈھانچے پر تھا۔ طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن نور اللہ نوری نے کہا کہ بات چیت کے نتائج آنے والے دنوں میں نظر آئیں گے۔ اگر مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو پھر فوجی حملے کا آپشن کھلا رہتا ہے۔ مزاحمتی محاذ کے رکن حامد سیفی نے کہا کہ وہ مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہم نے تمام فوجی تیاریاں بھی کر رکھی ہیں۔












