واشنگٹن (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ناراض ہونے کی خبریں گردش میں ہیں۔ اس دوران امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اسرائیل کا وہ دورہ منسوخ کر دیا ہے جو آئندہ پیر کو طے تھا۔اس فیصلے نے کئی قیاس آرائیوں اور سوالات کو جنم دیا ہے۔ بالخصوص جب کہ امریکی اور اسرائیلی ذرائع پہلے ہی دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی کی خبریں دے چکے ہیں۔ہیگسیتھ کی ٹیم نے اسرائیلی وزارتِ دفاع کو مطلع کیا ہے کہ دورہ اس لیے منسوخ کیا گیا کہ صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے ساتھ صدارتی طیارے پر سعودی عرب کے دورے پر جائیں۔ یہ بات ایک اسرائیلی عہدے دار نے امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو بتائی۔ادھر پینٹاگان کے ترجمان، شون بارنیل نے جمعے کے روز ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ "ہیگسیتھ نے اسرائیل کا دورہ منسوخ نہیں کیا، بلکہ انھیں صدر ٹرمپ کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر جانے کی دعوت دی گئی ہے۔ایک اور اسرائیلی اہل کار نے بتایا کہ ہیگسیٹ کا دورہ مکمل طور پر تیار تھا اور کئی دن سے اس کی تیاری جاری تھی۔ دورے میں امریکی وزیر کو اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز اور وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کرنا تھی، نیز غزہ کے ساحل کے قریب ایک اسرائیلی بحری جہاز پر بریفنگ لینا بھی شیڈول میں شامل تھا۔ منگل کے روز ہیگسیتھ کو صدر ٹرمپ کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے خطے کے دورے میں شامل ہونا تھا۔یاد رہے کہ ٹرمپ اپنا دورہ 12 مئی سے شروع کریں گے، اور ان کے ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وزیر توانائی کرس رائٹ اور وزیر تجارت ہاورڈ لٹنیِک بھی موجود ہوں گے۔












