واشنگٹن (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ جنوری کے آخر میں ’خلیج میکسیکو‘کا نام تبدیل کر کے "خلیج امریکا” رکھنے کے اعلان کے بعد، اب امریکا میں کوئی بھی شخص گوگل میپس پر پرانے نام کے تحت اس جگہ کو تلاش نہیں کر سکتا۔اس تبدیلی نے میکسیکو کی حکومت کو غصے میں مبتلا کر دیا ہے، اور میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شینباوم نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت نے اس نام کی تبدیلی پر گوگل کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔شینباوم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا "گوگل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امریکی حکومت کے فیصلے پر عمل کرے، یہ بیان امریکی صدر کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے حوالے سے تھا جس میں امریکا کے زیر انتظام سمندری علاقوں کے نام تبدیل کیے گئے تھے، نہ کہ پورے خلیج کے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کو اپنے علاقوں کے نام تبدیل کرنے کا حق ہے، لیکن میکسیکو یا کیوبا کے زیر انتظام سمندری علاقوں کے نام تبدیل کرنا امریکا یا کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے۔ شینباوم نے مزید کہا کہ "ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم انھیں کسی ریاست، پہاڑ یا جھیل کے نام تبدیل کرنے کا کہیں۔شینباوم نے اس قانونی کارروائی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، صرف یہ کہا کہ گوگل کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا گیا ہے۔ماضی میں میکسیکو کی وزارت خارجہ نے گوگل کو پیغامات بھیجے تھے، جن میں درخواست کی گئی تھی کہ وہ میکسیکو کے سمندری علاقے کو "خلیج امریکا” کے طور پر نہ دکھائے۔گوگل نے ایک بیان میں وضاحت کی تھی کہ امریکا کے صارفین کو نئے نام کے تحت یہ سمندری علاقے دکھائے جائیں گے، جب کہ میکسیکو کے صارفین کو "خلیج میکسیکو” کا ہی نام نظر آئے گا، اور دنیا کے دیگر حصوں میں دونوں نام دکھائے جائیں گے۔یہ سمندری علاقے امریکا اور میکسیکو کے درمیان مشترکہ سرحد رکھتے ہیں۔ میکسیکو کا موقف ہے کہ "خلیج امریکا” صرف ان حصوں پر لاگو ہونا چاہیے جو امریکا کے گہری سمندری علاقے کے قریب ہیں۔یاد رہے کہ "خلیج میکسیکو” کا یہ نام پچھلے 400 سالوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ اس کا آغاز 1607 سے ہوا تھا اور یہ اقوام متحدہ کے ذریعے تسلیم شدہ ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے جنوری میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس میں اس نام کی تبدیلی کی گئی تھی، جو صرف امریکا میں لاگو ہوتا ہے۔ میکسیکو اور دیگر ممالک یا بین الاقوامی اداروں پر اس تبدیلی کو تسلیم کرنے کا کوئی قانونی دباؤ نہیں ہے۔












