واشنگٹن (ہ س)۔امریکی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور? سعودی عرب کے دوران ریاض کے سیاسی اور سفارتی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا، خاص طور پر یوکرین کی جنگ سے متعلق مذاکرات کی میزبانی اور سوڈان اور یمن میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کے تناظر میں مملکت کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔امریکی وزارتِ خارجہ کے علاقائی ترجمان سیموئیل واربیرگ نے کہا کہ واشنگٹن سعودی عرب کی ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو اس نے دنیا بھر میں سیاسی تنازعات کے حل، عالمی توانائی منڈی کے تحفظ اور علاقائی و بین الاقوامی استحکام کے لیے سفارتی سطح پر جاری رکھی ہوئی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیرونِ ملک پہلا دورہ نہ صرف امریکی انتظامیہ کی خلیجی ممالک سے تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس میں سعودی عرب کا نمایاں کردار بھی جھلکتا ہے، جو خطے میں امریکہ کے ساتھ تزویراتی شراکت کو مستحکم کرنے میں کوشاں ہے۔ سعودی عرب نے اب تک 4 خلیجی-امریکی سربراہی اجلاسوں کی میزبانی کی ہے۔اسی تناظر میں کل ریاض میں صدر ٹرمپ کے دورے کے موقع پر ایک اور خلیجی-امریکی سربراہی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے، جو امریکہ اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان پانچواں اجلاس ہو گا۔ اس تسلسل کی ابتدا مئی 2015ء میں کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے پہلے خلیجی-امریکی اجلاس سے ہوئی تھی۔سعودی دارالحکومت ریاض نے ماضی میں دو بڑی خلیجی-امریکی کانفرنسوں کی میزبانی کی ہے۔ پہلی اپریل 2016ء میں، جبکہ دوسری مئی 2017ء میں صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں منعقد ہوئی۔ چوتھی کانفرنس جولائی 2022 میں جدہ میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی شرکت کے ساتھ ہوئی، جس میں مصر، اردن اور عراق جیسے عرب ممالک بھی شامل تھے۔ان اجلاسوں اور سفارتی سرگرمیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف خطے میں سیاسی استحکام کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی سفارتی حیثیت مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔












