ریاض (ہ س)۔سعودی دار الحکومت میں آج بدھ کے روز امریکی-خلیجی سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اس سے قبل منگل کے روز امریکی صدر نے ریاض میں ایک بھرپور دن گزارا، جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ بات چیت اور کئی معاہدوں پر دستخط شامل ہیں۔سربراہی اجلاس میں امریکی صدر … سعودی عرب سمیت خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، اور عمان) کے رہنماؤں اور نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ بعد ازاں وہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے کے لیے قطر روانہ ہوں گے، جو ان کے پہلے سرکاری بیرونی دورے کا حصہ ہے۔خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں کی ریاض آمد شروع ہو چکی ہے۔سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اس اجلاس میں شرکت کے لیے خلیج تعاون کونسل کے رہنماؤں کو دعوت دی ہے۔ یہ امریکا اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان پانچواں سربراہی اجلاس ہے۔خلیج تعاون کونسل اور امریکا کے درمیان مضبوط تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات ہیں۔ سال 2024 میں فریقین کے بیچ تجارتی تبادلہ 180 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔اس سربراہی اجلاس میں متعدد اہم مسائل پر بات چیت کی جائے گی، جن میں علاقائی سیاسی و سکیورٹی صورت حال، اور دنیا اور خطے کی اقتصادی صورت حال شامل ہیں۔اس سے قبل منگل کے روز سعودی عرب اور امریکا کے درمیان اربوں ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدے ہوئے، جن میں توانائی، مصنوعی ذہانت، ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے شامل ہیں۔امریکا کی طرف سے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کریں گی۔ٹرمپ منگل کی صبح دو روزہ سرکاری دورے پر سعودی دار الحکومت ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ یہاں ان کا استقبال سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کیا۔ سعودی عرب کے بعد امریکی صدر قطر اور متحدہ عرب امارات جائیں گے۔ٹرمپ کے ساتھ بڑی امریکی کمپنیوں کے کئی اعلیٰ عہدت داران بھی ہیں جو مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، توانائی اور دیگر شعبوں میں سرگرم ہیں۔ وہ سعودی-امریکی بزنس فورم میں شریک ہوئے۔اس دورے کو ٹرمپ نے "تاریخی” قرار دیا ہے اور یہ ان کی دوسری صدارتی مدت میں پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔












