واشنگٹن (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں ساٹھ دن کی جنگ بندی کے لیے شرائط کو قبول کر لیا ہے، اور یہ کہ تمام فریق اس مدت کے دوران جنگ کے خاتمے کے لیے کام کریں گے۔ٹرمپ نے منگل کے روز مزید کہا کہ تل ابیب کی منظوری ان کے وفد کے اسرائیلیوں کے ساتھ "ایک طویل اور نتیجہ خیز ملاقات” کے بعد سامنے آئی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ "حماس اس تجویز کو قبول کرے گی”، کیونکہ یہ "مشرق وسطیٰ کے مفاد میں ہے”۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر حماس نے اس تجویز کو مسترد کیا تو "خطے کی صورت حال بہتر نہیں ہو گی بلکہ مزید خراب ہو جائے گی۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ "قطری اور مصری فریق، جنھوں نے امن کے حصول کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں، اس حتمی تجویز کی ترسیل کا کام انجام دیں گے۔امریکی صدر نے منگل کو یہ بھی کہا کہ وہ آئندہ ہفتے کے دوران غزہ میں جنگ بندی تک پہنچنے کی امید رکھتے ہیں”، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ "سختی” سے پیش آئیں گے تاکہ غزہ کی جنگ ختم کی جا سکے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ پیر کے روز واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں "غزہ اور ایران کے معاملات” پر بات کریں گے۔ٹرمپ نے یہ بات منگل کے روز اس وقت صحافیوں سے کہی جب وہ فلوریڈا ایورگلیڈز میں تارکینِ وطن کے ایک حراستی مرکز کے دورے کے لیے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو رہے تھے۔












