تل ابیب(ہ س)۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے اپنی تین شرائط سے آگاہ کیا ہے جس میں ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ’غیر معمولی‘ معاہدے کے لیے تین شرائط کے ساتھ تیار ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’افزودگی کو روکنا، 300 میل (482 کلومیٹر) سے زیادہ کی رینج کے بیلسٹک میزائلوں پر پابندی عائد کرنا جو کہ بین الاقوامی معاہدوں کی طرف سے مقرر کردہ حد ہے اور دہشت گردی کے محور کو ترک کرنا شرائط کا حصہ ہیں۔‘یاد رہے کہ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ وہ افزودگی ترک نہیں کریں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر وہ مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں تو ان کا مقصد صرف جوہری پروگرام پر بات چیت ہو گا۔یاد رہے کہ اسرائیل اور ایران کے یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں فریق 23 جون (تقریباً تین ہفتے قبل) سے جنگ بندی پر قائم ہیں۔نیتن یاہو نے اس انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر ایرانی حکومت ان تین شرائط پر راضی ہو جاتی ہے تو یہ ایک مختلف حکومت ثابت ہو گی۔ساتھ ہی نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ اگر تہران ان شرائط کو قبول نہیں کرتا تو انھیں ایران کو انھیں قابو میں بھی رکھنا ہو گا اور ایران میں ہونے والی پیشرفت کو بھی جاری رہنے دینا ہو گا۔ابھی یہ واضح نہیں کہ نیتن یاہو میزائل رینج کو 300 میل (482 کلومیٹر) تک محدود کرنے والے جن بین الاقوامی معاہدوں کا حوالہ دے رہے ہیں وہ کون سے ہیں، تاہم وہ ممکنہ طور پر میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم کی جانب اشارہ کر رہے ہیں جو 35 ممالک کے درمیان ایک غیر رسمی سیاسی مفاہمت ہے جس کا مقصد میزائل پروگراموں اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو محدود کرنا ہے۔‘دوسری جانب یہ بھی یاد رہے کہ ایران اسغیر رسمی سیاسی تفہیم کا فریق نہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ملاقات سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ ملاقات کے دوران اسرائیل اور ایران کے درمیان بحران کا ’مستقل حل‘ تلاش کریں گے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ’ہم کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جس میں افزودگی کو روکنا شامل ہو۔‘انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو بات چیت کا واحد موضوع نیوکلیئر ہو گا اور کوئی دوسرا مسئلہ مذاکرات سے مشروط نہیں ہوگا۔‘یاد رہے کہ ایرانی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔












