واشنگٹن(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ یوکرین کو پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا، یہ ملک کے دفاع کے لیے ضروری ہیں کیونکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن باتیں تو اچھی کرتے ہیں لیکن پھر شام کو سب پر بمباری کرتے ہیں۔ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنے میزائل سسٹم یوکرین بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن کہا کہ امریکہ کو ان کی قیمت کی ادائیگی یورپی یونین کرے گی۔امریکی صدر کی پوتن سے ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ روسی رہنما نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کی ہے۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس سے روزانہ ہونے والے میزائل اور ڈرون حملے روکنے کے لیے مزید دفاعی صلاحیتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ٹرمپ نے واشنگٹن سے باہر جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم انہیں پیٹریاٹ بھیجیں گے جن کی انہیں اشد ضرورت ہے کیونکہ پوتن نے واقعی بہت سارے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ وہ باتیں تو اچھی کرتے ہیں اور پھر شام کو سب پر بمباری کرتے ہیں۔ لیکن وہاں تھوڑا سا مسئلہ ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں ہے۔ٹرمپ نے کہا، "ہم بنیادی طور پر انہیں انتہائی جدید ترین فوجی سازوسامان کے مختلف اجزاء بھیجنے جا رہے ہیں۔ وہ ہمیں اس کے لیے 100 فیصد ادائیگی کریں گے اور ہم ایسا ہی چاہتے ہیں۔ٹرمپ اس ہفتے نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کرنے والے ہیں تاکہ نیٹو اتحادیوں کو امریکی ہتھیار فروخت کرنے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا جائے جسے وہ آگے یوکرین کو بھیج سکیں۔روٹے پیر اور منگل کو واشنگٹن میں ہوں گے اور ان کا ٹرمپ، سکریٹری خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ ساتھ کانگریس کے ارکان سے مذاکرات کرنے کا ارادہ ہے۔اتوار کی رات واشنگٹن پہنچنے پر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، "میں سیکریٹری جنرل کے ساتھ ملاقات کرنے والا ہوں جو کل آرہے ہیں۔ٹرمپ کے ایک اعلیٰ اتحادی جنوبی کیرولائنا کے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اتوار کو کہا، تنازعہ تبدیلی کے ایک موڑ کے قریب ہے کیونکہ ٹرمپ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی مدد کرنے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ ایک وجہ ہے کہ ٹرمپ نے قبل ازیں اسے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا ضیاع کہا تھا جنہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جنگ فوراً ختم کرنے کو اولین ترجیح قرار دیا تھا۔گراہم نے سی بی ایس کے فیس دی نیشن شو میں کہا، آئندہ دنوں میں آپ ہتھیاروں کو ریکارڈ سطح پر یوکرین جاتا دیکھیں گے جو وہ اپنے دفاع کے لیے استعمال کرے گا۔ ایک سب سے بڑی غلطی جو (روسی صدر ولادیمیر) پوتن نے کی ہے، وہ ٹرمپ کے سامنے کچھ کا کچھ ظاہر کرنا ہے۔ اور آپ دیکھتے جائیں، آئندہ دنوں میں پوتن کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کتنی زیادہ کوشش ہو گی۔روٹے کا دورہ اس وقت ہوا ہے جب ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ پیر کو روس کے حوالے سے ایک "بڑا بیان” دیں گے لیکن اتوار کو انہوں نے اپنے اعلان کی مزید تفصیلات پیش کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا ، "یہ پتا چل جائے گا کہ کل کیا ہو گا۔ کنیکٹیکٹ کے گراہم اور ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے کہا، کیپیٹل ہل پر اور یورپی حکام کے درمیان اس پر بھی اتفاقِ رائے بڑھ رہا ہے کہ یوکرین کی مدد کے لیے جنگ کے شروع میں گروپ آف سیون ممالک کی طرف سے منجمد کردہ 300 بلین ڈالر کے روسی اثاثہ جات میں سے بعض سے فائدہ اٹھایا جائے۔












