واشنگٹن(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ’مایوس‘ ضرور ہوئے ہیں لیکن ان کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھیں گے۔جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ روسی صدر پر بھروسہ کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ: ’میں کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتا۔‘ٹرمپ اس سے قبل یوکرین کو اسلحہ دینے کا اعلان کر چکے ہیں اور انھوں نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگلے 50 دنوں میں جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں اسے سخت ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا۔وائٹ ہاؤس سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نیٹو کے مشترکہ دفاع کے اصول کی حمایت کرتے ہیں۔اس انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے گذشتہ برس بٹلر میں خود پر ہونے والے حملے پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں سوچتا کہ اس سے مجھے میں کیا تبدیلی آئی‘ مگر ’اس سے زندگی بدل سکتی ہے۔‘ٹرمپ نے گذشتہ روز نیٹو کے سربراہ مارک روتے سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی۔ بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے دوران وہ زیادہ دیر تک روسی صدر سے مایوس ہونے کے حوالے سے ہی بات کرتے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ انھیں متعدد اوقات پر چار مرتبہ ایسا لگا کہ روس کے ساتھ معاہدہ ہونے والا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ صدر پوتن کو ’خون بہانے سے روکنے‘ کے لیے کیا اقدامات کریں گے تو انھوں نے کہا: ’ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔‘ٹرمپ نے روسی صدر سے ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ہماری اچھی گفتگو ہوتی تھی۔ میں کہتا تھا کہ ’یہ اچھا ہے، میرے خیال میں ہم (جنگ بندی کے) قریب پہنچ چکے ہیں‘ اور پھر وہ (پوتن) کیئو میں کسی عمارت کو اڑا دیتے تھے۔‘صدر ٹرمپ سے جب مستقبل میں دنیا میں برطانیہ کے کردار کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ’وہ بہترین جگہ ہے، آپ کو معلوم ہے میری وہاں ایک پراپرٹی بھی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ وہ رواں برس ستمبر میں برطانیہ کا دوسرا دورہ کرنے کے لیے پْرامید ہیں۔ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ وہ ان دوروں سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ: ’میں اچھا وقت گزارنا چاہتا ہوں، شاہ چارلس کو عزت دینا چاہتا ہوں کیونکہ وہ ایک عظیم آدمی ہیں۔‘












