تل ابیب(ہ س)۔العربیہ اور الحدث ذرائع نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ اسرائیلی طیارے جنوبی شام کی فضاؤں میں پرواز کرتے رہے، جب کہ انھوں نے السویداء صوبے کے کنارے پر تین نئے فضائی حملے کیے، اور چوتھا حملہ درعا کے مشرقی دیہی علاقے میں بریگیڈ 52 پر کیا گیا۔ ادھر اسرائیلی ٹی وی چینل 12″ نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن نے تل ابیب سے جنوبی شام میں شامی فوج پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مذکورہ امریکی عہدے دار کے مطابق اسرائیلی حکومت نے منگل کی شام ان حملوں کو روکنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔اسی ضمن میں امریکی ویب سائٹ "axios” نے بھی ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ شام کے جنوبی حصے میں شامی فوج پر حملے بند کرے۔ ویب سائٹ کے نمائندے نے ایک پوسٹ میں "ایکس” پلیٹ فارم پر اس امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے امریکیوں کو بتایا تھا کہ وہ منگل کی شام کے بعد یہ حملے بند کر دے گا۔اس سے قبل منگل کے روز شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹوم باراک نے جنوبی شام میں حالیہ جھڑپوں کو "تشویش ناک” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ حالات کو پْر امن بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ باراک نے "ایکس” پر ایک پیغام میں کہا کہ امریکہ شام کے تمام فریقوں سے مؤثر رابطے میں ہے تاکہ امن کی طرف پیش رفت ہو۔ انھوں نے کہا کہ سویداء میں حالیہ جھڑپیں تمام فریقوں کے لیے باعث تشویش ہیں، اور امریکہ ایک پْر امن اور جامع حل کی کوشش کر رہا ہے جو دروز، بدو قبائل، شامی حکومت اور اسرائیلی افواج سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اْنھوں نے یہ بھی کہا کہ غلط فہمیاں اور ناقص رابطے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، اور واشنگٹن براہ راست، مؤثر اور مثبت بات چیت کے ذریعے امن و ہم آہنگی کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ادھر منگل کو شامی سرکاری افواج سویداء شہر میں داخل ہو گئیں، یہ جنوبی شام میں واقع دروز اکثریتی علاقہ ہے۔ اتوار کے روز دروز جنگجوؤں اور مقامی بدو قبائل کے مسلح افراد کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان جھڑپوں کے بعد حکومت نے علاقے میں افواج بھیجیں تاکہ امن بحال ہو اور جھڑپوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ وزارت دفاع نے منگل کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ سویداء کے عمائدین کے ساتھ رابطوں کے بعد علاقے میں فائر بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے بعد سرکاری افواج شہر میں داخل ہوئیں۔ اس سے قبل ڈیڑھ لاکھ آبادی والے اس شہر پر مقامی دروز گروہوں کا کنٹرول تھا جو اس کی سیکیورٹی سنبھالے ہوئے تھے۔ دروزی روحانی اداروں نے اپنے بیانات میں مقامی جنگجوؤں سے اپیل کی کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور سرکاری افواج سے تصادم سے گریز کریں۔دوسری جانب اسرائیل نے پیر سے سویداء میں شامی افواج کے متعدد ٹھکانوں پر بم باری کی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے’ایکس‘ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ایک واضح پیغام اور انتباہ تھے، اور اسرائیل شام میں دروز کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کو برداشت نہیں کرے گا۔












