انقرہ:ترک حکام کو بدھ کو علی الصبح ایک نجی طیارے کا وائس ریکارڈر اور بلیک باکس مل گیا جو دارالحکومت انقرہ سے پرواز کرنے کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس میں لیبیا کی مسلح افواج کے سربراہ اور ان کے چار ساتھی ہلاک ہو گئے۔ترک حکام نے بتایا کہ فالکن 50 طیارے نے پرواز کے چند منٹ بعد ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی لیکن پھر رابطہ منقطع ہوگیا۔ یہ طرابلس واپس آ رہا تھا۔طیارے کا ملبے کی نشاندہی انقرہ کے قریب ہیمانا ضلع میں ترک سکیورٹی اہلکاروں نے کی تھی۔ترک وزیرِ داخلہ علی یرلیکایا نے جائے وقوع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طیارے سے وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (بلیک باکس) برآمد ہو گیا تھا۔انہوں نے کہا، "متعلقہ حکام نے ان آلات کی جانچ اور جائزہ شروع کر دیا ہے۔”انقرہ میں ترک فوجی حکام سے مذاکرات کے بعد لیفٹیننٹ جنرل محمد الحداد اور چار دیگر معاونین طرابلس واپس جا رہے تھے۔ طیارے میں عملے کے تین ارکان سمیت آٹھ مسافر سوار تھے۔یرلیکایا نے کہا کہ لاشیں بدستور ملبے کے علاقے میں موجود تھیں اور لیبیا کا 22 رکنی وفد انقرہ پہنچ گیا ہے۔الحداد اگست 2020 سے آرمی چیف تھے اور ان کا تقرر اس وقت کے وزیرِ اعظم فیاض السراج نے کیا تھا۔لیبیا دو حصوں میں منقسم ہے اور طرابلس میں وزیرِ اعظم عبدالحمید دبیبہ کے زیرِ قیادت اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت جبکہ مشرق میں کمانڈر خلیفہ حفتر کی انتظامیہ ہے۔شمالی افریقی ملک 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے خاتمے اور دیرینہ رہنما معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے منقسم ہے۔طرابلس میں اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے ترکیہ سے قریبی تعلقات ہیں۔ وہ لیبیا کو اقتصادی اور فوجی مدد فراہم کرتا ہے اور فریقین کے درمیان اکثر دورے ہوتے رہے ہیں۔لیکن انقرہ نے حال ہی میں مشرق میں حریف انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا ہے اور ترک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن کے ہمراہ اگست میں بن غازی میں حفتر سے ملاقات کی۔












