واشنگٹن، (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالی لینڈ کو بہ طور آزاد ریاست تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ فی الحال ایسی کسی تجویز کی حمایت نہیں کرتے۔ نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی انتظامیہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو ان کا مختصر جواب تھا نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں اس معاملے پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا واقعی کوئی جانتا بھی ہے کہ صومالی لینڈ کیا ہے؟ واضح رہے کہ جمعہ کو امریکہ کا اہم اتحادی ملک اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا، جب کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے اس اقدام کو مسترد کیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل فوری طور پر صومالی لینڈ کے ساتھ زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبدالله کو مبارک باد دی، ان کی قیادت کی تعریف کی اور انھیں اسرائیل کے دورے کی دعوت دی۔ مصر نے اسرائیل کے اعلان کے بعد شاخ افریقہ میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کو خطرناک پیش رفت قرار دیا اور صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی۔ واضح رہے کہ صومالی لینڈ 1991 سے، جب صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہوا تھا، مؤثر خودمختاری اور نسبتاً امن و استحکام سے لطف اندوز ہو رہا ہے، تاہم اس علیحدہ خطے کو اب تک کسی اور ملک کی جانب سے باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ گزشتہ برسوں کے دوران صومالیہ نے بین الاقوامی برادری کو کسی بھی ملک کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے خلاف متحرک کیا ہے۔












