کراکس، (یو این آئی) وینزوئیلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکہ کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ مادورو نے تاہم واضح کیا کہ اس طرح کی بات چیت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب امریکہ وینزوئیلا کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کر دے۔ مسٹر مادورو نے ایک ٹیلی ویژن خطاب کے دوران کہا، "اگر امریکی فریق وینزوئیلا میں گزشتہ 25 سالوں سے مداخلت کرنے کی اپنی ناکام کوششوں کو ترک کرنے اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت میں شامل ہونے پر آمادہ ہے، تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ ہم امن، تعاون اور خوشحالی کا راستہ تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں”۔ اپنے خطاب میں صدر مادورو نے امریکی موقف پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے امریکہ پر وینزوئیلا کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ، ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں اور موجودہ قیادت کا تختہ الٹنے کی سازشوں کا الزام لگایا۔ انہوں نے امریکی میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ وینزوئیلا کی حقیقی صورتحال کو سمجھیں اور اس پر رپورٹ کریں۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے امریکہ نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ کے بہانے وینزوئیلا کے قریب کیریبین میں بڑے پیمانے پر فضائی اور بحری افواج کو تعینات کر رکھا ہے۔ اس مہم کے دوران کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ کے مشتبہ تقریباً 30 جہاز ڈوب چکے ہیں جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔












