علی گڑھ،سماج نیوز سروس : جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ پلاسٹک سرجری کے پلاسٹک سرجنز نے مائیکرو سرجری میں مہارت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پیچیدہ اور فوری سرجری کے ذریعے چار سالہ بچے کا کٹا ہوا ہاتھ کامیابی سے دوبارہ جوڑ دیا۔ راگھو ولد رویندر ساکن علی گڑھ کا ہاتھ چارہ کاٹنے والی مشین میں پھنس گیا اور کلائی کے مقام سے کٹ گیا تھا۔ شدید زخمی حالت میں اسے جے این ایم سی ایچ لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت مستحکم کی اور پھر اسے فوری طور سے ایمرجنسی آپریشن تھیٹر منتقل کیا۔ چھ گھنٹے پر مشتمل طویل مائیکرو سرجیکل عمل میں ڈاکٹروں نے ہڈیوں کی درستگی، خون کی روانی بحال کرنے کے لیے شریانوں اور وریدوں کی مائیکرو ویسکولر جوڑائی (ایناسٹوموسس) کی اورنسوں کو نہایت باریکی سے جوڑا۔ سرجری کے دوران خون کے کئی بوتل چڑھائے گئے۔ یہ آپریشن ڈاکٹر شیخ سرفراز علی نے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں ڈاکٹر آریش کمار گپتا، ڈاکٹر فہد انصاری، ڈاکٹر آکانکشا چوہان اور ڈاکٹر کنن کوہلی کے ہمراہ انجام دیا۔ اینستھیسیا کی سہولت ڈاکٹر فرح، ڈاکٹر مہوش اور ان کی ٹیم نے فراہم کی۔ ڈاکٹر شیخ سرفراز علی نے بتایا کہ بچوں میں ری پلانٹیشن کی سرجری خاص طور پر مشکل ہوتی ہے کیونکہ خون کی نالیاں اور بافتے انتہائی باریک ہوتے ہیں، جس کے لیے اعلیٰ درجے کی مائیکرو سرجیکل مہارت درکار ہوتی ہے۔ پروفیسر ایم ایف خرم نے جن کی رہنمائی میں یہ سرجری انجام دی گئی کہا کہ ایسے معاملات میں خون کی روانی کی فوری بحالی اور ری پلانٹیشن کے مراحل کی درست ترتیب کامیابی کے لیے نہایت اہم ہے۔ سینئر پلاسٹک و ری کانسٹرکٹیو سرجن پروفیسر عمران احمد نے اس بات پر زور دیا کہ اسپتال تک بروقت پہنچنا اور کٹے ہوئے عضو کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھنا عضو کو بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔فی الحال بچے کی حالت مستحکم ہے، ہاتھ صحت مند حالت میں ہے، خون کی مناسب ترسیل برقرار ہے، اور وہ شعبے کی نگرانی میں فزیوتھیریپی اور بحالی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پروفیسر خرم نے بتایا کہ جے این ایم سی میں معمول کے طور پر پیچیدہ اعضا کو دوبارہ جوڑنے کی سرجری اور مائیکرو سرجیکل ری کانسٹرکشن کامیابی کے ساتھ انجام دی جارہی ہے اور نتائج حوصلہ افزا ہیں۔












