• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, جنوری 2, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

امریکہ کی سانس: زندگی کا سہارا یا موت کا اشارہ؟

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 2, 2026
0 0
A A
امریکہ کی سانس: زندگی کا سہارا یا موت کا اشارہ؟
Share on FacebookShare on Twitter

دنیا کی سیاست میں الفاظ اکثر بارود سے زیادہ دھماکہ خیز ثابت ہوتے ہیں۔ طاقتور ملکوں کے رہنما جب اپنی برتری کے نشے میں جملے اچھالتے ہیں تو وہ محض اظہارِ خیال نہیں ہوتے بلکہ پوری دنیا کے ذہنوں پر ایک خاص تاثر چھوڑ جاتے ہیں۔ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص غرور کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ “امریکہ کے بغیر دنیا کی ہر چیز مر جائے گی۔” یہ جملہ سننے میں شاید کسی اشتہاری نعرے کی طرح معلوم ہو، مگر اس کے پیچھے چھپی سوچ نہ صرف دنیا کے لیے سوال ہے بلکہ خود امریکہ کے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔
ٹرمپ نے یہ الفاظ اس اعتماد کے ساتھ ادا کیے جیسے زمین کا مدار واشنگٹن کی مرضی پر گھومتا ہے۔ انہوں نے اپنے دورِ صدارت کو ایک سنہری عہد قرار دیا، گویا ان کی آمد نے امریکہ کو بچا لیا اور ان کے جانے کے بعد بربادی نے دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ اپنی معیشت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کس طرح امریکہ ان کے ہاتھوں ترقی کی بلندیوں کو چھو گیا، اور پھر بائیڈن کے زیرِ سایہ سب کچھ پست ہونے لگا۔ سیاست کی دنیا میں خود ستائی نئی بات نہیں، لیکن جب ایک ملک کا سربراہ یہ باور کرانے لگے کہ اس کے بغیر دنیا کا وجود ہی بے معنی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی کروڑوں انسان کس دھرتی پر جی رہے ہیں؟
امریکہ کی معیشت بے شک بڑی ہے، لیکن دنیا کا تصور صرف ایک معیشت کے گرد نہیں گھومتا۔ چین اپنی صنعتوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، یورپ اپنی کرنسی کی طاقت سے وجود جتا رہا ہے، روس توانائی کے ذخائر سے اثرانداز ہو رہا ہے، اور بھارت اپنی منڈی کے سہارے جگہ بنا رہا ہے۔ یہ سب زندہ قومیں کیا امریکہ کے سایے کے بغیر سانس نہیں لے سکتیں؟ اگر ایسا ہوتا تو آج ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی زمینوں پر زندگی کب کی بجھ چکی ہوتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر قوم اپنے وسائل اور اپنی محنت سے زندہ رہتی ہے۔ امریکہ کا کردار یقینا اہم ہے، مگر دنیا کی دھڑکن اس کے بغیر رک نہیں سکتی۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ٹیرف کو اپنی کامیابی کا راز بتایا اور خاص طور پر بھارت پر تنقید کی کہ وہ امریکی مصنوعات پر بھاری محصولات لگاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکل کا ذکر کر کے انہوں نے کہا کہ بھارت سو فیصد ٹیرف وصول کرتا ہے جبکہ امریکی منڈیاں بھارتی سامان کے لیے کھلی ہیں۔ یہ شکایت سن کر شاید کسی کو یوں لگے کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو اپنی موٹر سائیکل بیچنے کے لیے رونا پڑ رہا ہے۔ گویا سیاست کی عالمی بساط پر بڑے فیصلے اب دو پہیوں پر طے ہوں گے۔ لیکن یہاں ایک اور پہلو بھی چھپا ہے۔ تجارتی رشتے اگر صرف منافع پر کھڑے ہوں تو پھر عزت و وقار کہاں جائے گا؟ کیا دو قوموں کے درمیان تعلق صرف اس بات پر منحصر ہونا چاہیے کہ ایک دوسرے کے سامان پر کتنا ٹیکس لگایا گیا؟ اگر ایسا ہے تو پھر تہذیب، ثقافت اور دوستی کی باتیں محض کتابی قصے ہیں۔ انسانیت کی بنیاد پر تعلقات وہی قائم رہتے ہیں جن میں اعتماد کا عنصر غالب ہو۔ اور جو قومیں اپنے رشتے صرف اشیاء کی قیمت پر تولتی ہیں، وہ اکثر قیمت چکانے کے باوجود اعتماد سے محروم رہتی ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی باتوں میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے کئی جنگوں کو ختم کرایا اور دنیا کو تباہی سے بچایا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اگر واقعی امریکہ نے دنیا کو بچایا ہے تو پھر افغانستان کے کھنڈر کس کے مرہونِ منت ہیں؟ عراق کی بربادی کا ذمہ دار کون ہے؟ شام کے بچے کس کے ہاتھوں بے گھر ہوئے؟ اور فلسطین کے شہیدوں کے خون کی قیمت کس کھاتے میں ڈالی جائے؟ اگر امریکہ امن کا سفیر ہے تو پھر یہ لاشیں کس عدالت میں گواہی دیں گی؟ دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ کئی جنگوں کے شعلے وہیں سے بھڑکے جہاں سے امن کے نعرے بلند کیے گئے۔
یہ بھی کہا گیا کہ پاک بھارت تنازعے میں امریکہ نے کردار ادا کیا ورنہ شاید ایٹمی جنگ چھڑ جاتی۔ مان لیا کہ سفارت کاری کے کچھ دروازے کھولے گئے ہوں گے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑے ملک اکثر تنازعے کو ختم کرنے کے بجائے اسے اپنی ضرورت کے مطابق منجمد کر دیتے ہیں۔ وہ جنگ کو مکمل ختم نہیں ہونے دیتے تاکہ ان کی ثالثی کی اہمیت باقی رہے۔ یہ سیاست کے وہ کھیل ہیں جن میں بظاہر زندگی دی جاتی ہے مگر دراصل موت کو ملتوی کیا جاتا ہے۔
ہمارے ملک کے لیے اس بیان میں ایک اور سبق بھی ہے۔ یہی ٹرمپ وہ شخصیت ہیں جنہیں ہمارے وزیر اعظم کا ’’خاص دوست‘‘ کہا گیا تھا۔ ان کے استقبال کے لیے بڑے جلوس نکالے گئے، “ہاؤڈی مودی” جیسے اجتماعات میں لاکھوں لوگوں کو جمع کیا گیا۔ ایک وقت میں یہ تاثر دیا گیا کہ بھارت اور امریکہ کی دوستی دنیا کے نقشے کو بدل دے گی۔ لیکن آج وہی دوست بھارت کو سب سے بڑا ٹیرف عائد کرنے والا ملک کہہ رہا ہے۔ دوستیاں اگر مفاد پر کھڑی ہوں تو پلک جھپکتے میں بدل جاتی ہیں۔ سیاست میں محبت کے گلے ملنے کی عمر اکثر صرف ایک تصویر جتنی ہوتی ہے۔
ٹرمپ کا یہ کہنا کہ دنیا ان کے ملک کے بغیر مر جائے گی، ایک طرف ان کے غرور کی علامت ہے تو دوسری طرف ایک خوف کی نشانی بھی۔ جو طاقتور ہوتا ہے اسے بار بار اپنی طاقت کا اعلان نہیں کرنا پڑتا۔ اصل قوت خاموشی سے اثر ڈالتی ہے۔ بار بار ڈھنڈورا پیٹنے والا دراصل اپنی کمزوری کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکہ کے لیے بھی شاید یہی کیفیت ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، نئے طاقت کے مراکز ابھر رہے ہیں، اور واشنگٹن کو یہ احساس ہے کہ اس کا پرانا مقام متزلزل ہو رہا ہے۔ یہی خوف ٹرمپ جیسے لیڈروں کے لبوں پر غرور بن کر ظاہر ہوتا ہے۔
تاریخ کے دفتر میں جھانک کر دیکھیں تو ایک سچائی بار بار ابھرتی ہے: کوئی طاقت ہمیشہ کے لیے باقی نہیں رہتی۔ فرعون نے اپنی خدائی کا اعلان کیا تھا، نمرود نے آسمان میں تیر چلائے تھے، رومی سلطنت نے زمین کے بیشتر حصے کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا، برطانوی سامراج نے فخر سے کہا تھا کہ اس کی سلطنت پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا، اور سوویت یونین نے اپنے پرچم کو ناقابلِ شکست سمجھا تھا۔ لیکن ان سب کے غرور کو وقت نے زمین بوس کر دیا۔ اب اگر امریکہ کا کوئی رہنما یہ دعویٰ کرے کہ اس کے بغیر دنیا مر جائے گی تو یہ تاریخ کے اس چلتے پھرتے اصول کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے کہ غرور کی دیواریں آخرکار ڈھہ جاتی ہیں۔
دنیا کا وجود کسی ایک دارالحکومت کے رحم و کرم پر نہیں۔ اگر واشنگٹن کی عمارتیں نہ بھی رہیں، تب بھی سورج مشرق سے طلوع ہوگا، سمندر اپنی لہریں پھیلائیں گے، پرندہے فضاؤں میں پرواز کریں گے اور کھیتوں میں اناج اگے گا۔ انسانیت نے ہمیشہ اپنی محنت اور قربانیوں کے سہارے آگے بڑھنے کا ہنر سیکھا ہے، کسی ایک طاقت کے سائے میں دب کر جینے کا نہیں۔ امریکہ کی معیشت بے شک بڑی ہے، اس کے ہتھیار بے شک مہلک ہیں، لیکن دنیا کی دھڑکن کسی ایک ملک کی مٹھی میں قید نہیں کی جا سکتی۔ اصل زندگی تو اس وقت جنم لیتی ہے جب قومیں اپنی خودی کو پہچانتی ہیں۔ غلامی میں سانس لینا، چاہے وہ کتنی ہی آسائشوں کے ساتھ ہو، زندگی نہیں کہلاتا۔ ٹرمپ کا جملہ اگر کسی کو متاثر کرتا ہے تو اسے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی ہماری حیات اس قدر کمزور ہے کہ ایک ملک کے بغیر سب کچھ ختم ہو جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ دنیا پہلے ہی نیم مردہ ہے، زندہ نہیں۔ زندہ وہی ہے جو اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرتا ہے، جو اپنے وسائل پر بھروسہ کرتا ہے اور جو دوسروں کے گھمنڈ کے سائے میں اپنی سانسیں گننے کے بجائے اپنے خون سے چراغ جلاتا ہے۔
امریکہ کے بغیر دنیا کے مرنے کا تصور دراصل اس سوچ کی پیداوار ہے جو طاقت کو انسانیت پر فوقیت دیتی ہے۔ لیکن وقت کا قانون اور فطرت کا نظام اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی ایک قوت ہمیشہ دوسروں کی سانسوں کا مالک بن جائے۔ جب ایک مرکز کمزور ہوتا ہے تو دوسرا مرکز ابھرتا ہے۔ جب ایک دیوار گرتی ہے تو نئی بنیادیں کھڑی ہوتی ہیں۔ تاریخ کا پہیہ ہمیشہ آگے بڑھتا ہے، کسی ایک کے رکنے سے دنیا کا سفر بند نہیں ہوتا۔
آج اگر امریکہ اپنے غرور میں دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اس کے بغیر سب مر جائیں گے تو اسے ویتنام کی سرزمین یاد کرنی چاہیے، جہاں بمباری کے باوجود زندگی نے اپنی جڑیں جما لیں۔ اسے عراق کے کھنڈرات یاد رکھنے چاہییں، جہاں راکھ کے ڈھیر پر بھی بچے کھیلنے لگے۔ اسے افغانستان کے پہاڑ یاد رکھنے چاہییں، جہاں طویل ترین جنگ کے باوجود لوگ اب بھی زندگی کی تلاش میں ہیں۔ اسے فلسطین کی گلیاں یاد رکھنی چاہییں، جہاں ہر دن موت کے سائے میں بھی لوگ سانس لیتے ہیں اور اپنی زمین سے جڑے رہتے ہیں۔ یہ سب گواہی ہیں کہ انسانیت کسی ایک طاقت پر نہیں، بلکہ اپنے حوصلے پر زندہ رہتی ہے۔ امریکہ اگر خود کو دنیا کا واحد سہارا سمجھتا ہے تو یہ دراصل اس کا خوف ہے۔ طاقتور کبھی اپنی طاقت کا بار بار اعلان نہیں کرتا۔ جو بار بار اپنی عظمت کا نعرہ لگائے، وہ دراصل اپنی کمزوری کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ نئے طاقت کے مراکز ابھر رہے ہیں، اور وہ وقت دور نہیں جب واشنگٹن کی اجارہ داری محض ایک باب بن کر رہ جائے گی۔ ٹرمپ کے الفاظ اسی ڈر کا اظہار ہیں کہ کہیں یہ تاج سر سے نہ اتر جائے۔ دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اصل آزادی کسی ایک ملک کے سایے میں نہیں، بلکہ اپنی خودی اور اپنی خودمختاری میں ہے۔ جو قوم اپنی خودی پہچان لیتی ہے، اسے کسی ٹرمپ یا کسی امریکہ کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور جو اپنی تقدیر دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتی ہے، وہ مر تو پہلے ہی چکی ہوتی ہے، چاہے سانسیں باقی ہوں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے بغیر دنیا مرے گی نہیں، بلکہ شاید پہلی بار جیے گی۔ جیے گی اس معنی میں کہ قومیں اپنی منزل خود تراشیں گی، اپنے فیصلے خود کریں گی اور اپنی سانسوں کا حساب خود رکھیں گی۔ جب دنیا کسی ایک طاقت کے سائے سے نکل کر اپنی روشنی میں سانس لینا سیکھ لے گی تو یہی اس کا اصل جنم ہوگا۔ اور یہی وہ پیغام ہے جسے تاریخ بار بار دہرا رہی ہے کہ گھمنڈ کے مینار ہمیشہ گرتے ہیں اور انسانیت ہمیشہ اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    نوعمری میں ٹرین کے سفر کے دوران افسوسناک واقعہ کا ملکہ کیملا نے کیا انکشاف

    نوعمری میں ٹرین کے سفر کے دوران افسوسناک واقعہ کا ملکہ کیملا نے کیا انکشاف

    جنوری 2, 2026
    نیتن یاہو غزہ جنگ بندی معاہدے کو کیوں برقرار نہیں رکھنا چاہتے؟

    نیتن یاہو غزہ جنگ بندی معاہدے کو کیوں برقرار نہیں رکھنا چاہتے؟

    جنوری 2, 2026
    روس یوکرین سے جنگ جیت جائے گا: پوتن

    روس یوکرین سے جنگ جیت جائے گا: پوتن

    جنوری 2, 2026
    روبرٹو کارلوس کی اچانک اسپتال منتقلی، فٹبال حلقوں میں تشویش

    روبرٹو کارلوس کی اچانک اسپتال منتقلی، فٹبال حلقوں میں تشویش

    جنوری 2, 2026
    نوعمری میں ٹرین کے سفر کے دوران افسوسناک واقعہ کا ملکہ کیملا نے کیا انکشاف

    نوعمری میں ٹرین کے سفر کے دوران افسوسناک واقعہ کا ملکہ کیملا نے کیا انکشاف

    جنوری 2, 2026
    نیتن یاہو غزہ جنگ بندی معاہدے کو کیوں برقرار نہیں رکھنا چاہتے؟

    نیتن یاہو غزہ جنگ بندی معاہدے کو کیوں برقرار نہیں رکھنا چاہتے؟

    جنوری 2, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist