سید پرویز قیصر
ٹسٹ کرکٹ میں ڈبل سنچری کے ساتھ اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے ویسٹ انڈیز کے لارنس رواپنی77ویں سالگرہ 8 جنوری کو منائیں گے۔ وہ 1949میں اس دن کنگسٹن، جمائیکا میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کونیوزی لینڈکے خلاف کنگسٹن میں فروری1972میں اپنا پہلا ٹسٹ کھیلنے کا موقع ملا تھا۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگ میں427 منٹ میں19 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے214 رن بنائے تھے۔ ان سے پہلے انگلینڈکے ٹپ فوسٹر نے اور انکے بعد سری لنکا کے برینڈن کروپو نیوزی لینڈکے میتھو سنکلیر اورٖٖڈیون کونوے، ویسٹ انٖڈیز کے کائل میرس اور جنوبی افریقہ کے جیک روڈولف اپنے پہلے ٹسٹ میں ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگ میں لارنس رونے153 منٹ میں 13 چوکوں کی مدد سے آوٹ ہوئے بغیر100 رن بنائے تھے۔ وہ پہلے ٹسٹ کی دونوں اننگوں میں سنچریاں بنانے والے پہلے کھلاڑی تھے بعد میں پاکستان کے یاسرحمید نے بنگلہ دیش کے خلاف کراچی میں اگست 2003میں دونوں اننگوں میں سنچریاں بناکر انکی برابری کی تھی۔
بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے لارنس رو نے اپنا آخری ٹسٹ میچ نیوزی لینڈکے خلاف آکلینڈمیں فروری۔مارچ1980 میں کھیلا تھا۔ اس ٹسٹ کی پہلی اننگ میں انہوں نے پچاس اور دوسری میں پانچ رن بنائے تھے۔ انکے پہلے ٹسٹ کی طرح یہ ٹسٹ بھی کسی فیصلہ کے بغیر ختم ہوا تھا۔
لارنس رو نے کل30 ٹسٹ میچ کھیلے جن کی49 اننگوں میں انہوں نے43.55 کی اوسط کے ساتھ سات سنچریوں اور اتنی ہی نصف سنچریوں کے ساتھ2047 رن بنائے۔ وہ دو مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور302 رہا جو انہوںنے انگلینڈکے خلاف برج ٹاون میں مارچ 1974میں 612 منٹ میں430بالوں پر36 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بنایا تھا۔ یہ ٹسٹ کسی فیصلہ کے بغیر ختم ہوا تھا۔
ویسٹ انڈیز میں ہوئے ٹسٹ میچوں میں انکی کارکردگی ویسٹ انڈیز سے باہرہوئے میچوں کے مقابلے کافی اچھی رہی تھی۔ویسٹ انڈیز میں1972-اور1976کے درمیان انہیں جن16 ٹسٹ میچوں کی24 اننگوں میںبلے باز کا موقع ملاتھا اس میں انہوں نے59.54 کی اوسط کے ساتھ پانچ سنچریوںاور دو نصف سنچریوں کی مدد سے1310 رن بنائے تھے۔ ایک مرتبہ صفرکا شکارہوئے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور302 رن رہا تھا۔ویسٹ انڈیز سے باہر انہیں1975اور 1980 کے درمیان جن 14 ٹسٹ میچوں میں کھیلنے کا موقع ملا تھا انکی25 اننگوں میں وہ29.48 کی اوسط کے ساتھ دو سنچریوں اور پانچ نصف سنچریوں کی مدد سے737 رن بنانے میںکامیاب رہے تھے۔ وہ ایک مرتبہ اپنا کھاتہ نہیں کھول پائے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور107رن رہا جو انہوں نے آسڑیلیا کے خلاف برسبین میں نومبر 1975 میں 267 منٹ میں235 بالوں پر15 چوکو ں کی مدد سے بنایا تھا۔ اس ٹسٹ میں آسڑیلیا نے آٹھ وکٹ سے کامیابی حاصل کی تھی اور یہ ٹسٹ ویسٹ انڈیز سے باہر لارنس روکا پہلا ٹسٹ میچ بھی تھا۔
لارنس رو نے1975- اور1980 کے درمیان جن11ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی انکی آٹھ اننگوں میں17.00کی اوسطاور55.73کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ ایک نصف سنچری کی مدد سے136 رن بنائے۔ اپنے پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں جوانہوں نے آسڑیلیا کے خلاف سڈنی میں28 نومبر1979 کوکھیلا تھا، 147 منٹ میں89 بالوں پرپانچ چوکوں کی مدد سے60 رن بنائے تھے جو اس قسم کے کرکٹ میں ان کا سب سے زیادہ اسکور رہا۔












