صادق شروانی
نئی دہلی،سماج نیوز سروس: دہلی میں اردو اکیڈمی دہلی اقلیتی کمیشن دہلی وقف بورڈ گذشتہ کئی سالوں سے خالی پڑے ہیں اور ان کی تشکیل دینے کے لیے کسی بھی مسلم ممبران اسمبلی نے ایوان میں آواز بلند نہیں کی۔جبکہ دہلی اسمبلی کے سرمائی اجلاس جنوری 2026میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن جماعت عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کے درمیان مختلف ایشوز پر ایوان میں جم کر ہنگامہ ہوا۔ سرمائی اجلاس کے پہلے روز ہی آلودگی پر جہاں ایک طرف عام آدمی پارٹی کے تقریباً تمام ممبران اسمبلی ماسک کے ساتھ ایوان پہنچے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ دہلی میں لوگوں کا سانس لینا مشکل ہو گیا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ’آپ‘ والوں کا یہ مظاہرہ صرف ایوان تک محدود نہیں رہا بلکہ ودھان سبھا احاطے سے لے کر اس کے باہر بھی نظر آیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ہنگامے پر قابو پانے کے لیے اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے اپوزیشن اسمبلی ممبران کو باہر راستہ دکھایا۔ اس کے بعد روزانہ حکومت اور ا پوزیشن کے درمیان نوک جھونک جاری رہی۔ چار روزہ اس اجلاس کو گذشتہ روز ایک دن کے لیے اور بڑھا دیا گیا تھا۔ جو آج (جمعہ) کو اختتام پذیر ہوا۔لیکن اس پانچ روزہ اجلاس میں چونکانے والی بات یہ رہی کہ مسلم ممبران اسمبلی سرمائی اجلاس کے اس ایوان میں ایک سوال بھی نہیں کرسکے۔ کسی بھی مسلم ممبران اسمبلی نے دہلی میں مسلم ایشوز پر زبان نہیں کھولی۔ یہ بھی چھوڑ دیں تو یہ ممبران اسمبلی اپنے اپنے حلقہ کے کسی بھی مسائل کو اس اجلاس میں نہیں اٹھا سکے۔ایسا لگتا ہے جیسے اب دہلی میں مسلمانوں کے کوئی ایسے ایشوز نہیں ہیں جسے سرکاری سطح پر حل کرایا جائے یا پھر دہلی کے مسلم حلقوں میں بھی اب تمام ایشوز حل ہو چکے ہیں اور ان مسائل کی گونج ودھان سبھا میں اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مسلم علاقوں میں کام کر رہے سیاسی و سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقوں میں سرکاری سطح پر آواز بلند کرنے کے لیے مختلف ایشوز ہیں اور مسلمانوں کے مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں۔نہیں معلوم کہ ہمارے عوامی نمائندوں نے ہمارے علاقہ کے مسائل پر بھی ایک سوال نہیں پوچھا۔ دہلی کے دیگر علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کے لیے ملنے والی سہولیات کیی بات تو چھوڑدیجئے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجلی پانی جیسے بنیادی مسائل سے ہی مسلم علاقوں میں بہت سے مسائل ہیں۔ لیکن ان مسائل پر ہم نے ودھان سبھا سیشن کے دوران اپنے اپنے علاقہ کا ایک بار بھی نام نہیں سنا۔حالانکہ درگاہ فیض الٰہی میں ہوئی انہدامی کاروائی کے بعد بگڑے حالات پر ضرور ایوان کے باہر ان ممبران اسمبلی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتراضات درج کرائے۔ مگر کسی مسلم ممبران اسمبلی نے اس کو ایوان میں نہیں رکھا۔ اس سلسلے میں ہم نے سابق ریاستی وزیر خوراک و رسد عمران حسین سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ہمیشہ کی طرح فون ریسیو کرنے میں ناکام نظر آئے۔ تو وہیں اوکھلا ممبر اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین امانت اللہ خان نے بھی فون ریسیو نہیں کیا۔ جبکہ سیلم پور ممبر اسمبلی چودھری زبیر احمد سے بات کرنے کی کوشش لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ مٹیا محل ممبر اسمبلی اور سابق ڈپٹی میئر آلِ محمد اقبال کا نمبر سوئچ آف تھا۔آپ کو بتا دیں کہ یہ چاروں ممبرانِ اسمبلی عام آدمی پارٹی کے انتخابی نشان پر کامیاب ہوئے ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ گذشتہ دنوں کارپوریشن کے ضمنی انتخاب کے دوران ممبر اسمبلی آل محمد اقبال کی پسند کے امیدوار کو عام آدمی پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ جس کی وجہ سے آجکل عام آدمی پارٹی اور مٹیا محل ممبر اسمبلی کے درمیان تنازع بنا ہوا ہے۔ لیکن ان کی گنتی آج بھی عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کی شکل میں کی جاتی ہے۔افسوس کی بات ہے کہ ان ممبران اسمبلی نے مسلم علاقوں کے ناموں کو سرمائی اجلاس میں محروم کر دیا۔












