حیدرآباد،پریس ریلیز،ہماراسماج:مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ایسے نوجوانوں کو تعلیم کے رشتہ سے جوڑ رہی ہے جو اپنے خاندان میں پہلی مرتبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ ایک ایسا انقلابی کام ہے جس سے لوگوں کی ز ندگیاں بدل رہی ہیں۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر انیل ڈی سہسرابدھے نے کیا۔ جو NAAC کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے صدر نشین ہیں۔ وہ آج اردو یونیورسٹی میں منعقدہ29 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ یومِ تاسیس کے اس پروگرام کی صدارت پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے کی۔پروفیسر سہسرابدھے نے کہا کہ مانو کی جانب سے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا نفاذ ایک بہت ہی خوش آئند اقدام ہے۔ ان کے مطابق نئی قومی تعلیمی پالیسی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم کسی وجہ سے تعلیم ترک کردیتا ہے تو اس کو اس قابلیت کا صداقت نامہ ضرور مل سکتا ہے جتنا کورس اس نے مکمل کیا ہے۔ جب وہ دوبارہ ایک ، دو سال بعد اپنی تعلیم آگے بڑھانا چاہے تو وہ ایسا آسانی کے ساتھ کرسکتا ہے۔اس پالیسی کے تحت اسپورٹس اور دیگر مقابلوں میں حصہ لینے والے طلبہ بھی تعلیمی کریڈٹس حاصل کرسکتے ہیں۔ اردو یونیورسٹی کی مسلسل ترقی پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر سہسرابدھے نے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم فراہم کرتے ہوئے سماج کے ایک بڑے طبقے کو بااختیار بنانے کے لیے یونیورسٹی ایک بہت بڑا کام کر رہی ہے۔ میڈیکل ایجوکیشن کے سوا بقیہ سبھی مضامین میں اردو یونیورسٹی 120 کورسز فراہم کرتے ہوئے تعلیمی انقلاب کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ انہوں نے بدلتے ہوئے چیلنجس سے یونیورسٹی کے نصاب کو ہم آہنگ کرنے کی وکالت کی اور کہا کہ چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے مضامین میں جس تیزی سے ترقی ہو رہی ہے طلبہ کو ایسے تمام چیلنجس سے سامنا کرنے کے قابل بنانا ضروری ہے تبھی جاکر وہ سماج کے لیے کارآمد اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رکھیں۔قبل ازیں پروگرام کا آغاز قرأت کلام پاک سے ہوا۔ جس کے بعد یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد نے مہمانِ خصوصی پروفیسر سہسرابدھے کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ پروفیسر سہسرابدھے کا شمار نئی تعلیمی پالیسی کے معماروں میں ہوتا ہے اور اردو یونیورسٹی میں پروفیسر صاحب کی آمد ایک فالِ نیک سے کم نہیں۔ پروفیسر سید عین الحسن نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ گذشتہ اٹھائیس برسوں کا وقت کسی بھی یونیورسٹی کی زندگی میں کوئی بہت زیادہ شمار نہیں ہوتا لیکن انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے نہایت قلیل مدت میں اپنا ایک معیار قائم کیا ہے۔ جس کا سہرا تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی مشترکہ کوششوں کو جاتا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کو درپیش چیلنجس کے پس منظر میں کہاکہ کسی بھی یونیورسٹی کی ترقی کے لیے اگر عزم مصمم ہو تو رکاوٹیں بھی از خود دور ہوجاتی ہیں اور وہ بھی کسی بھی رکاوٹ کے آگے ہتھیار ڈالنے والے نہیں۔ پروفیسر سید عین الحسن کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کی زیر نگرانی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کئی ایک اہم سنگ میل طئے کیے ہیں اور مزید بہتر منزل کی طرف رواں ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں 47 فیصدی طلبہ صنف نازک سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو داں طبقے کو باختیار بنانے میں اردو یونیورسٹی پوری طرح سے سرگرمِ عمل ہے۔رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد نے اردو یونیورسٹی کے انفراسٹرکچر، کورسز اور سہولیات کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اردو یونیورسٹی کا مرکزی کیمپس حیدرآباد کے علاقے گچی باؤلی میں 200 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی مجاہدِ آزادی اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے معنون ہے جن کے وژن نے ملک میں جدید تکنیکی، سائنسی اور اعلیٰ تعلیم کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مساوات اور سماجی انصاف کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اردو یونیورسٹی جامع اور اعلیٰ معیار کے تعلیمی مواقع کی پیشکش کر کے اردو بولنے والے عوام کو بااختیار بنانے کوشاں ہیں۔ پروفیسر صدیقی محمد محمود، ڈین بہبودیِ طلبہ شکریہ ادا کیا اور پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی، صدر نشین یومِ تاسیس انتظامی کمیٹی نے کارروائی چلائی۔ ڈاکٹر عبدالعلیم کی قرأت کلام پاک سے جلسے کا آغاز ہوا۔












