ممبئی، (یواین آئی) ہندوستان اور ممبئی انڈینز کی کپتان ہرمن پریت کور نے کہا ہے کہ ہندوستان صرف ایک ورلڈ کپ جیت پر مطمئن نہیں ہے، جبکہ رائل چیلنجرز بنگلورو کی کپتان اور ہندوستانی نائب کپتان اسمرتی مندھانا نے کہا کہ ان کا اگلا ہدف ٹی20 ورلڈ کپ 2026 ہے اور ڈبلیو پی ایل اس ہدف تک پہنچنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔دونوں کھلاڑیوں نے ڈبلیو پی ایل 2026 کے افتتاحی میچ سے قبل بتایا کہ آنے والا سیزن کس طرح ون ڈے چیمپئن ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ چیمپئن بننے میں مدد دے سکتا ہے۔مندھانا نے کہا، "اگر ہم ٹی20 ورلڈ کپ جیتتے ہیں تو یہ بہت شاندار ہوگا۔ ہم ون ڈے ورلڈ کپ جیت چکے ہیں، لیکن ٹیم میں اب بھی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر ہمیں کام کرنا ہے۔ ہم واقعی ایک ایسا وقت چاہتے ہیں جب ہم کہہ سکیں کہ ‘ہاں، ہم دنیا کی سب سے بہترین ٹیم ہیں’۔ میرے خیال میں ہمیں ابھی بھی کافی بہتری لانی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ڈبلیو پی ایل آنے والے برسوں میں اس فرق کو کم کرے گا۔ جب بھی ہم ہندوستان کے لیے کھیلتے ہیں تو ہم ہمیشہ یہ بات کرتے ہیں کہ ہم صرف ایک یا دو ٹورنامنٹس کے لیے نہیں بلکہ پورا سال دنیا کی بہترین ٹیم بننا چاہتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہر ڈبلیو پی ایل ہمیں اس ہدف کے اور قریب لے جا رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا،”ون ڈے ورلڈ کپ جیتے ہوئے ابھی ڈیڑھ مہینہ ہی ہوا ہے اور ڈبلیو پی ایل اسی رفتار کو آگے بڑھائے گا۔ ڈبلیو پی ایل میں واپس آنا ہمیشہ جوش و خروش سے بھرپور ہوتا ہے کیونکہ یہاں گھریلو کھلاڑی غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، اور یہ تجربہ خواتین کرکٹ کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ڈبلیو پی ایل اس مومنٹم کو آگے لے جائے گا جو ہمیں ورلڈ کپ سے ملا ہے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔”وہیں ہرمن پریت نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہندوستانی ٹیم میں آنے والی نوجوان کھلاڑیاں سینئر کھلاڑیوں کے اہداف سے جڑی ہوئی ہیں، اور اس کا سہرا ڈبلیو پی ایل کو جاتا ہے جس نے ٹیم کو "جیتنے والی سوچ” دی ہے۔ انہوں نے کہا،”ہم صرف ایک ورلڈ کپ پر مطمئن نہیں ہیں۔ ہمارے پاس اس سال اور آئندہ دو تین برسوں میں بہت زیادہ کرکٹ ہے۔ ہر بار جب ہم میدان میں اترتے ہیں تو ہم بہترین مائنڈ سیٹ کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، اور یہی مائنڈ سیٹ ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ صرف ہم ہی نہیں بلکہ دیگر کھلاڑیاں بھی یہی سوچتی اور کہتی ہیں کہ ہم ہمیشہ چیمپئن بننا چاہتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈبلیو پی ایل نے ہم پر کتنا بڑا اثر ڈالا ہے۔”ہرمن پریت نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ ٹورنامنٹ نوجوان کھلاڑیوں کو دباؤ میں کھیلنے کے لیے کس طرح تیار کرتا ہے۔اب کھلاڑیاں اپنے کمفرٹ زون میں نہیں رہیں۔ وہ بہت محنت کر رہی ہیں۔ وہ غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ اور ان کے خلاف کھیل رہی ہیں، جس سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔ اب وہ خلا نہیں رہا جو پہلے بین الاقوامی کرکٹ میں محسوس ہوتا تھا۔ میرے خیال میں ڈبلیو پی ایل نے ہماری کرکٹ پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے۔ بطور ٹیم ہمیں خوشی ہے کہ ہم بڑے اہداف طے کر رہے ہیں۔”انگلینڈ میں ٹی20 ورلڈ کپ شروع ہونے میں اب چھ ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے۔ ایسے میں مندھانا نے کہا کہ ڈبلیو پی ایل ان کھلاڑیوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے جو ابھی ہندوستانی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا،”جب ڈبلیو پی ایل میں نئی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں تو یہ بہت پُرجوش لمحہ ہوتا ہے۔ میں کبھی یہ نہیں کہوں گی کہ دروازے بند ہو چکے ہیں اور اب کسی کو موقع نہیں مل سکتا۔ اگر کوئی کھلاڑی غیر معمولی کارکردگی دکھاتی ہے تو ٹی20 ورلڈ کپ کا موقع ضرور بنتا ہے۔ وہ (ہرمن پریت) بھی اس بات سے متفق ہوں گی۔ البتہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ کھلاڑی ٹیم میں کہاں فِٹ بیٹھتی ہے۔ لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ اگر کسی نے ڈبلیو پی ایل میں اچھا کھیل دکھایا تو اس کے لیے مواقع ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔”












