ایران اس وقت 2022 کے بعد ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اندرونی عوامی بے چینی، شدید معاشی دباؤ اور عالمی طاقتوں کی سیاسی و اسٹریٹجک مداخلت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ملک میں گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران روز بروز بڑھ رہے احتجاجات محض وقتی عوامی ردعمل نہیں ہیں بلکہ ایک گہرے معاشی، سیاسی اور عالمی بحران کا مظہر ہیں، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور دنیا پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
ایران میں احتجاجات کی بنیادی وجہ شدید مہنگائی، ایرانی کرنسی کی بے قدری، بیروزگاری اور عوام کی قوتِ خرید میں خطرناک حد تک کمی ہے۔ ایرانی ریال مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، روزمرہ کی ضروریات عام شہریوں کے دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں اور متوسط طبقہ تیزی سے غربت کی لکیر کے قریب پہنچ رہا ہے۔ اسی معاشی دباؤ نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا، جہاں ابتدا میں مطالبات معاشی نوعیت کے تھے، مگر وقت کے ساتھ ان میں سیاسی نعرے اور ریاستی نظم و نسق پر سوالات بھی شامل ہوتے چلے گئے۔نتیجتاً اب حالات قابل غور اور سنجیدہ ہو گئے ہیں۔
صدر پزکشیان کے زیر قیادت ایرانی حکومت اور بالخصوص روحانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان مظاہروں و احتجاجات کو محض داخلی مسئلہ تسلیم کرنے کے بجائے بیرونی سازش سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ ان کا واضح موقف ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرکے اسلامی حکومت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ بہت حد تک درست سوچ بھی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ سپریم لیڈر نے امریکی قیادت کو براہِ راست خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو دھمکیاں دینا یا اندرونی معاملات میں مداخلت خطے کو ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
امریکہ، بالخصوص صدر ٹرمپ کی دھمکیوں اور واشنگٹن کی امریکی فرسٹ کے تحت اپنائی جانے والی پالیسیوں نے اس کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا طرزِ عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن کی ترجیح ایرانی عوام کی فلاح کم اور اسلامی نظامِ حکومت کا خاتمہ زیادہ ہے۔ مسلسل اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ، اور سخت بیانات دراصل اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دراصل امریکہ ایران کو ایک اور افغانستان یا عراق بنانے کی خواہش رکھتا ہے، جہاں طویل عدم استحکام، خانہ جنگی اور ریاستی کمزوری نے پورے خطے کو دہائیوں تک عدم تحفظ میں مبتلا رکھا۔
اسی تناظر میں پہلوی خاندان کی واپسی کا سوال بھی بار بار اٹھایا جاتا ہے۔ رضا پہلوی کو بعض مغربی حلقے متبادل قیادت کے طور پر پیش کرتے ہیں، حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ نہ ایرانی عوام کی اکثریت اس آپشن کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور نہ ہی خود امریکہ اس پر مکمل بھروسہ کر پا رہا ہے۔ ایران کا سماجی اور سیاسی شعور 1979ء سے پہلے کے دور سے یکسر مختلف ہے، اور شاہی نظام کی بحالی فی الحال ایک کمزور اور غیر حقیقی تصور دکھائی دیتی ہے۔
ایران پر عائد عالمی پابندیاں اس پورے بحران کا سب سے اہم اور فیصلہ کن عنصر ہیں۔ ان پابندیوں نے ایران کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔ تیل کی برآمدات محدود، بین الاقوامی بینکنگ نظام سے کٹاؤ، غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی اور تجارتی راستوں کی بندش نے ایران کو شدید اقتصادی تنہائی میں دھکیل دیا ہے۔ ان پابندیوں کا سب سے بڑا بوجھ حکومت سے زیادہ عام شہری اٹھا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی غصہ روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے اور سماجی بے چینی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔
اگر عالمی برادری واقعی ایران میں امن اور استحکام چاہتی ہے تو اسے دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا۔ پابندیوں میں نرمی، سفارت کاری میں شفافیت اور ایران کے جائز معاشی حقوق کو تسلیم کیے بغیر اس بحران کو ہرگز ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یاد رکھئے کہ معاشی گھٹن نے ہمیشہ پائیدار امن کے بجائے انتہاپسندی، بدامنی اور عالمی عدم استحکام کو ہی جنم دیا ہے۔
ایران کے حالات کا براہِ راست اثر بھارت پر بھی پڑ رہا ہے، جو اس پورے منظرنامے میں ایک محتاط مگر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی ایران کے معاملے میں ہمیشہ متوازن رہی ہے۔ ایران بھارت کے لیے توانائی، علاقائی رابطہ کاری اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل میں ایک اہم شراکت دار رہا ہے۔ ایران میں عدم استحکام اور پابندیوں کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا بھارت کی معیشت پر دباؤ پڑتا ہے، جبکہ علاقائی تجارت اور اسٹریٹجک منصوبے بھی بہت حد تک متاثر ہوتے ہیں۔بھارت جہاں ایک طرف امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو اہمیت دیتا ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی روابط کو بھی مکمل طور پر نظرانداز نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی ایران کے معاملے میں کھلی محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے ہمیشہ سفارتی توازن کو قائم رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ بھارت کے لیے یہ بحران اس بات کا امتحان بھی ہے کہ وہ ایک ابھرتی عالمی طاقت کے طور پر کس حد تک اپنی خودمختار خارجہ پالیسی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ایرانی عوام کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ داخلی اختلافات، معاشی مطالبات اور سیاسی اصلاحات اپنی جگہ ہیں، مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بیرونی مداخلت اور نظام کی مکمل تباہی نہ ایران کے حق میں ہے اور نہ ہی اس پورے خطے کے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، خانہ جنگیوں اور عالمی طاقتوں کے تجربات کا میدان بنا ہوا ہے۔ ایران میں اسلامی حکومت کا مضبوط مگر اصلاح پذیر قیام ہی خطے کے استحکام، خودمختاری اور عالمی توازن کے لیے نسبتاً بہتر راستہ دکھائی دیتا ہے۔مجموعی طور پر ایران کا موجودہ بحران ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی نظام کی ناکامیوں، طاقت کی سیاست اور معاشی جبر کا آئینہ ہے۔ اگر دنیا نے اس بحران سے سبق نہ سیکھا اور پابندیوں، دھمکیوں اور اپنی مداخلت کی پالیسی کو جاری رکھا تو اس کے نتائج ایران سے نکل کر پورے خطے اور عالمی امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ ایران، امریکہ، یورپ، بھارت اور دیگر عالمی طاقتوں کے لیے اب بھی وقت ہے کہ وہ تصادم کے بجائے تدبر، اور دھمکیوں و دباؤ کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ اسی میں سبھی کی فلاح ہے۔












