سید پرویز قیصر
بنگلہ دیش کی انیس سال سے کم عمر ٹیم کے خلاف بلاوایو میں کھیلے گئے انیس سال سے کم عمر عالمی کپ کے میچ میں ہندوستان کے ویبھو سوریہ ونشی نے67 منٹ میں چھ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے72 رن بنائے۔ اپنی اس اننگ کے دوران وہ انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رن بھی مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں ایک ہزاررن بنانے والے ہندوستان کے ساتویں اور کل ملاکر35 ویں بلے باز بنے۔
بائیںہاتھ کے اس بلے باز نے20 ویں میچ کی 20 ویں اننگ میں ایک ہزار رن مکمل کئے اور انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میںتیسرے سب سے تیز ایک ہزار رن بنانے والے بلے باز بھی بنے۔
اس میچ کے اختتام تک چودہ سالہ کھلاڑی نے جو20 میچ کھیلے انکی20 اننگوں نے52.35 کی اوسط اور157.68 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ تین سنچریوں اور پانچ نصف سنچریوں کی مدد سے1047 رن بنائے تھے۔ وہ ابھی تک صفرکا شکار نہیں ہوئے ہیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور171 رن ہے جو انہوں نے دوبئی میں12 دسمبر2025 کو95 بالوںپر نو چوکوں اور14 چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ انیس سال سے کم عمر ایشیا کپ کے اس میچ میں ہندوستان نے234 رن سے جیت اپنے نام کی تھی۔
انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے تیز ایک ہزار رن بنانے کا اعزازہندوستان کے موجودہ کپتان شبھمن گل کے پاس ہے جنہوں نے ایک ہزار رن چودہویںمیچ کی 13 ویں اننگ میں مکمل کئے تھے۔ اس میچ کے اختتام تک انہوں نے 101.60 کی اوسط اور102.73 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ تین سنچریوں اور چھ نصف سنچریوں کی مدد سے1016 رن بنائے تھے۔ وہ ایک مرتبہ بھی صفرپر آوٹ نہیں ہوئے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور160 رن رہا تھا جو وہ انگلینڈکی انیس سال سے کم عمر ٹیم کے خلاف ممبئی میں6 فروری2017 کو 157 منٹ میں120 بالوں پر23 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ اس میچ میں ہندوستان کی انیس سال سے کم عمر ٹیم نے230 رن سے جیت حاصل کی تھی۔
ہندوستان کے انمکت چندانیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں دوسرے سب سے تیز ایک ہزار رن بنانے والے بلے باز ہیں۔ دائیں ہاتھ کے اس کھلاڑی نے17 ویں میچ کی17 ویں اننگ میں ایسا کیا تھا۔ وہ اس میچ کیاختتام تک71.64 کی اوسط اور84.49کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ چار سنچریوں اور چارنصف سنچریوں کی مدد سے1003رن بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ وہ اس میچ تک کبھی صفر کا شکار نہیں ہوئے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر122 رن رہا تھا جو وہ سری لنکا کے خلاف وشاکھا پٹنم میں5 اکتوبر2011 کو133 منٹ میں91 بالوں پر14 چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ اس میچ میں ہندوستان کی انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی ٹیم نے سات وکٹ سے جیت اپنے نام کی تھی۔
ہندوستان کے ٹن مے سری واسٹو نے26ویں میچ کی23 ویں اننگ کے دوران اپنے ایک ہزار رن مکمل کئے تھے جبکہ پاکستان کے سمیع اسلم نے 25 ویں میچ کی24 ویں اننگ میں ایسا کیا تھا۔ جنوبی افریقہ کے کونٹن ڈی کوک نے 24 ویں میچ کی 24 ویںاننگ میں ایک ہزار رن مکمل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ یہ دونوں بلے باز مشترکہ طور پر انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ایک روزہ کرکٹ میںپانچویں سب سے تیز ایک ہزار رن بنانے والے ہیں۔












