لندن،(یو این آئی) برطانیہ میں ایک بس اسٹاپ پر کھڑی 66 سالہ بزرگ خاتون کو چاقو کے پے در پے وار کرکے وحشیانہ طریقے سے قتل کردیا گیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ واردات کے بعد ملزم نہایت سکون و اطمینان سے پیدل چلتا ہوا وہاں سے چلا گیا، تاہم بعد ازاں اسے گرفتار کرلیا گیا۔میڈیکل سیکریٹری 66 سالہ انیتا مکھی کو 9 مئی 2024 کی صبح شمالی لندن کے علاقے ایج ویئر میں جالا ڈیبیلا نامی 24 سالہ نوجوان نے راہ گیروں کے سامنے چاقو کے وار کرکے قتل کردیا تھا۔حملے میں جاں بحق ہونے والی بزرگ خاتون کے اہلِ خانہ نے اس مقدمے سے سامنے آنے والے حقائق کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔ مقتولہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ شدید ذہنی بیماری میں مبتلا قاتل کو نہ صرف خونریز ویڈیوز دیکھنے تک رسائی حاصل تھی بلکہ وہ آن لائن چاقو خریدنے میں بھی کامیاب ہوگیا۔واقعے کے بعد ملزم مبینہ طور پر انتہائی بے پروائی کے ساتھ جائے وقوعہ سے روانہ ہو گیا، جبکہ وہاں موجود افراد نے خاتون کی مدد کے لیے دوڑ لگائی اور فوری طور پر ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی۔ تاہم طبی عملے، پولیس اور عوام کی کوششوں کے باوجود انیتا مکھی موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔عدالت میں کیس کی سماعت کے موقع پر ملزم کو ذہنی طور پر اس قدر بیمار قرار دیا گیا کہ وہ قتل کے مقدمے کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا۔ اولڈ بیلی میں ہونے والے ٹرائل کے بعد جیوری نے فیصلہ سنایا کہ ملزم جالا ڈیبیلا نے ہی انیتا مکھی کو قتل کیا تھا۔عدالت کو بتایا گیا کہ ڈیبیلا آن لائن خوفناک اور خونریز ویڈیوز دیکھنے کا عادی ہے اور اس نے ایک آن لائن چاقو خریدا، حالانکہ وہ ایک ایسے رہائشی مرکز میں مقیم تھا جہاں ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔یہ چاقو قتل سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل اس کے کولِنڈیل میں واقع رہائش گاہ پر پہنچایا گیا، جس کے فوراً بعد اس نے اس ہتھیار کو استعمال کرتے ہوئے خاتون کو قتل کردیا۔ استغاثہ کے مطابق یہ واردات اس تشدد سے مشابہت رکھتی تھی جو وہ آن لائن دیکھنے میں لطف محسوس کرتا خونریزی اور تشدد سے بھرپور ویڈیو فلمیں دیکھنے کا شوقین اور نفسیاتی مرض شیزوفرینیا کے مریض جالا ڈیبیلا کو عدالت نے غیر معینہ مدت کے لیے علاج کے غرض سے اسپتال میں داخل کرانے کا حکم دے دیا ہے۔












