نئی دہلی، (یواین آئی) امریکی صدر بارک اوبامہ سے لے کر روسی صدر ولادیمیر پوتن تک دنیا کے کئی بڑے رہنما ہندوستان کی یومِ جمہوریہ تقریبات میں بطورِ مہمانِ خصوصی شریک ہو چکے ہیں، لیکن کرتویہ پتھ پر شاید ہی کسی غیر ملکی مہمان کو ایسا پُرجوش اور والہانہ استقبال ملا ہو جیسا جنوبی افریقہ کے آزادی کے رہنما نیلسن منڈیلا اور عظیم باکسر محمد علی کو ملا تھا۔جنوبی افریقہ کے گاندھیائی رہنما نیلسن منڈیلا 1995 کی یومِ جمہوریہ پریڈ کے مہمانِ خصوصی تھے۔ جب تک نیلسن منڈیلا وہاں موجود رہے، ناظرین مسلسل ان کا نام دہراتے رہے۔ اس منظر کے عینی شاہدین کے مطابق، راج پتھ پر کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کا ایسا پُرجوش استقبال اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ نیلسن منڈیلا کی طرح ہی کرتویہ پتھ پر موجود عظیم مجمع نے باکسر محمد علی کا بھی تالیوں کی گونج کے ساتھ استقبال کیا تھا۔ وہ 1976 کی پریڈ میں خصوصی مہمان تھے، اس وقت وہ اپنے کیریئر کے عروج پر تھے اور ایک عالمی علامت سمجھے جاتے تھے۔ اس زمانے میں کرتویہ پتھ کو راج پتھ کہا جاتا تھا، جس کا نام 2022 میں مرکزی حکومت نے تبدیل کیا۔ اس سے پہلے یہ سڑک کنگز وے کے نام سے جانی جاتی تھی۔باکسر محمد علی پریڈ کے آغاز سے چند منٹ پہلے ہی اپنی نشست پر آ چکے تھے۔ جیسے ہی لاؤڈ اسپیکر پر ان کی آمد کا اعلان ہوا، ہزاروں افراد نے شور مچا کر ان کا خیرمقدم کیا۔ اس سال معروف کمنٹیٹر جسدیپ سنگھ آنکھوں دیکھا حال سنا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح محمد علی ہوا میں مُکّا لہرا کر اپنے مداحوں کا جواب دے رہے تھے۔ جب بھی وہ ایسا کرتے، مجمع جوش سے بھر جاتا۔ اُس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی بھی محمد علی کو دیکھ کر بار بار مسکراتی نظر آئیں۔اس دور کی پریڈ کے مقابلے میں آج سکیورٹی وجوہات کے باعث پریڈ کی شکل و صورت میں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ 13 دسمبر 2001 کو پارلیمنٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد 2002 میں پہلی بار پریڈ کا راستہ مختصر کیا گیا۔ تب سے پریڈ انڈیا گیٹ، آئی ٹی او اور دریا گنج سے ہوتی ہوئی لال قلعہ پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پریڈ کا کنّاٹ پلیس سے گزرنا بند ہو گیا، جس سے دہلی کے شہری شہر کے دل کہلانے والے اس علاقے میں پریڈ دیکھنے کی خوشی سے محروم ہو گئے۔پرانے راستے کے مطابق پریڈ کرتویہ پتھ سے انڈیا گیٹ تک جاتی تھی اور پھر کستوربا گاندھی مارگ کی طرف مڑتی تھی۔ وہاں سے یہ کنّاٹ پلیس کے آؤٹر سرکل کا پورا چکر لگاتی اور منٹو روڈ، تھامسن روڈ اور اجمیری گیٹ سے ہوتی ہوئی لال قلعہ تک پہنچتی تھی۔ اس پورے راستے پر ہزاروں لوگ صبح سویرے ہی اپنی جگہیں سنبھال لیتے تھے۔ کنّاٹ پلیس پہنچتے پہنچتے مارچ کرنے والے فوجی بھی کچھ حد تک پُرسکون ہو جاتے اور مسکرا کر مجمع کے سلام کا جواب دیتے۔ لوگ نہ صرف سڑکوں کے کنارے بلکہ عمارتوں کی چھتوں سے بھی اس شاندار منظر کو دیکھتے تھے۔ہر سال جنوری آتے ہی دہلی میں تیاریاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں کیونکہ مرکزی تقریب یہیں منعقد ہوتی ہے۔ پریڈ کے نمایاں مظاہر میں وہ بہادر بچے (بال ویر) بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں ان کی جرأت اور بہادری پر اعزاز دیا جاتا ہے۔ جب وہ صدرِ جمہوریہ کو سلامی دیتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو عوام پرجوش استقبال کرتے ہیں۔ یہ بچے 1959 سے پریڈ کا حصہ ہیں۔ پہلے طویل عرصے تک وہ ہاتھیوں پر سوار ہو کر آتے تھے، تاہم گزشتہ چند برسوں سے وہ کھلی جیپوں میں نظر آتے ہیں۔یومِ جمہوریہ سے دس دن قبل یہ بچے دارالحکومت پہنچ جاتے ہیں اور مشق کے ساتھ ساتھ صدرجمہوریہ، وزیرِ اعظم اور افواج کے سربراہان جیسی اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کرتے ہیں۔ وہ دہلی کے تاریخی مقامات اور تفریحی مراکز کی سیر بھی کرتے ہیں۔ تاہم پریڈ کے بعد یہ بہادر بچے عموماً عوامی توجہ سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ریاستی حکومتیں ان بچوں کو زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ہر ممکن مواقع فراہم کریں۔نئی دہلی کی ممتاز عمارتوں کے معماروں کا ذکر تو اکثر ہوتا ہے، لیکن کرتویہ پتھ کی تعمیر کرانے والے سردار نارائن سنگھ کا نام کم ہی لوگوں کو معلوم ہے۔ جب نئی دہلی کی تعمیر کے دوران سڑکوں کی ذمہ داری کا معاملہ آیا تو سردار نارائن سنگھ نے یہ کام سنبھالا اور اس دور کے معیار کے مطابق اعلیٰ درجے کی سڑکیں تعمیر اُن دنوں سڑکوں کے نیچے بڑے پتھر، پھر بجری اور کوئلے کی تہیں بچھائی جاتی تھیں۔












