محمد جنیدقاسمی
اناؤ، سماج نیوز سروس : گزشتہ شب مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد میں ’جلسہ تقسیم انعامات وسندفراغت حفظ قرآن کریم‘ منعقدہوا، جس میں آٹھ طالب علموں نے ایک نشست میں قرآن کریم سنانے کی سعادت حاصل کی،دریں اثنامولانا افضال الرحمن قاسمی شیخ الحدیث مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کا پڑھنا بھی عبادت اور قرآن کا پڑھانابھی عبادت ،قرآن کا سننابھی عبادت،قرآن مجیدکا سنانابھی عبادت ہے، اور مسلمانوں سنو !قرآن کا دیکھنابھی عبادت ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ جلال الدین سیوطی نے کہاکہ النظر فی المصحف عبادۃ، دیکھنے میں نہ تو تلاوت ہورہی ،نہ تو معنیٰ سمجھ رہے،لیکن اللہ پاک دیکھنے پر ثواب دے رہاہے۔ بعدازاں مولانا محمد عثمان آغو ش قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے مبعو ث کرنے کی ایک ترتیب بنائی ہے کہ محمد ﷺ کے مبعوث ہونے سے قبل بہت سے انبیاء آئے ،پھر اخیر میں ہم سب کے پیغمبرمحمدﷺ تشریف لائے ،ٹھیک اسی طرح یہ علماء کرام جو بڑوں کی مودگی میں چھوٹے ہیں ،کل یہی علماء بڑے ہونگے۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ضدی لوگوں کے خطرناک انجام بیان کیے ہیں، اور مطیع فرماں فرماں بردار لوگوں کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ہم سب کے دلوں کے حال کو اللہ تعالیٰ بخوبی جانتے ہیں۔ مولانا عبدالجبارقاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع ہردوئی نے خطاب کرتے ہوئے مفکراسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ کے حوالے سے کہا کہ دارالعلوم دیوبند ازہرہند تو ہے ہی بعض خصوصیات کی بناء پرجامع ازہر سے بھی فائق ہے ،اسی طرح دینی اداروں کی خصوصیات اور امتیازات ہونا بہت اچھی بات ہے ۔ مولانا کفیل اشرف ازہری لکھنؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن کریم کے یہ چار حقوق ایسے ہیں، جن کا ادا کرنا نہایت ضروری ہے (۱) قرآن کریم پر ایمان لانا۔(۲) اصول وآداب کی رعایت کرتے ہوئے تلاوت کا اہتمام۔ (۳) قرآن کریم میں غور خوض اور اس کی صحیح تفسیر(۴) قرآن کریم کی تعلیمات وہدایات پر مکمل اہتمام کے ساتھ عمل کرنا کسی بھی موقع پر اس سے اعراض نہ کرنا۔اس موقع پر الحاج حافظ محمد فرقان مہتمم مدرسہ نے جلسہ کی اہمیت اور اس کی غایت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کے اس پروگرام میں آٹھ طالب علموں نے ایک نشست میں قرآن پاک سنانے کی سعادت حاصل کی ہے، علماء کرام ایک جماعت نے حفاظ کے قرآن کوسماعت کیا۔ انہوں نے حاضرین کا شکریہ بھی اداکیا۔ مولانا مبین الحق مظاہری استاذ مدرسہ نے مسرت کا اظہار کیا اور فارغ ہونے والے بچوں کو مبارک باد پیش کی۔ مولانا سفیان مظاہری استاذ مدرسہ نے بھی فارغ ہونے والے طالب علموں کو مبارک باد پیش کی ۔جلسے کا آغاز قاری محمد شعیب قاسمی کی تلاوت سے ہواجبکہ نعت کا نذرانہ مفتی طارق جمیل قاسمی قنوج،حافظ فخرالدین ملانوی،حافظ محمد قاسم نے مشترکہ طورپرپیش کیا۔ نظامت کے فرائض مفتی محمدجنیدقاسمی استاذ مدرسہ نے انجام دیے ۔ اس موقع پرمنشی اکرام حسین، حافظ محمد نعمان، مولانا شاہدجامعی،حافظ محمد عدنان،مفتی محمد بلال قاسمی، مولانا مختارعالم مظاہری، مولانا سفیان جامعی، مولانا محمد غفران جامعی، مفتی وقارالدین قاسمی، مفتی ضیاء الدین قاسمی، مولانا عبدالوارث اشاعتی، مولانا خالدندوی، مولانا حسین جامعی، حافظ شکیل جامعی، مولانا عبدالقادرندوی، حافظ جاویدمفتاحی، مولانا اطہرثاقبی،حافظ ضیاء الدین ،حافظ رضی الدین،مفتی عبدالمتین ،مولانا فیصل بلال جامعی، حافظ جمیل حقی،محمد شکیل، محمد رئیس،مولانا کلیم الدین ، حافظ محمدزکریا، مولانا حبیب ندوی،مولانا نفیس مظاہری، مولانا محسن قاسمی ، مولانا عامل قاسمی،حافظ محمد سعید، منشی اشفاق،ماسٹر مبین وغیرہ موجودرہے۔پس پردہ خواتین نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔












