میرٹھ،سماج نیوز سروس:04فروری / 2026ء کو یو، جی سی نے اپنے سب سے اہم مقابلہ جاتی امتحان NETاور JRF کے نتائج کا اعلان کیا تھا۔جس میں شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کی تین طالبات سیدہ مریم الٰہی،فرحت اختر اور نزہت اختر نے اردو مضمون میں کامیابی حا صل کر کے اپنا اور شعبے کا نام روشن کیا ہے۔واضح ہو کہ شعبے کی دو طالبات فر حت اختر نے چوتھی مرتبہ اور نزہت اختر نے تیسری مرتبہ نیٹ کا ایگزام کوالیفائی کیا ہے۔شعبہئ اردو کے اساتذہ اور اراکین نے ان سبھی ہو نہارطلبہ و طالبات کو مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کیں۔ اس موقع پرتقریب کی صدا رت کرتے ہو ئے معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے سبھی طلبہ و طالبات کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے۔ محنت کبھی ضا ئع نہیں جاتی لیکن محنت بھی صحیح سمت میں کرنی چاہئے۔جو بھی طالب علم محنت اور سچی لگن سے کسی بھی امتحان کی تیاری کرتے ہیں تویقینی طور پر کامیابی کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں۔ نئے طالب علم ابھی سے عہد کریں کہ خوب محنت اور دل لگاکر نہ صرف اپنی نصابی کتابیں بلکہ مقابلہ جاتی امتحان کے لیے بھی مستند کتابیں پڑھیں گے۔اگر آپ ایسا کرلیتے ہیں تو یقینا کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شعبے کے استاد ڈاکٹر آصف علی نے کامیاب طالبات کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دور مقابلے کا دور ہے۔ ذرا سی لا پر واہی اور کو تاہی آپ کو مقابلے سے آ ؤٹ کردیتی ہے۔طالب علموں کویہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ سماج، ملک وقوم کی ترقی اور رہنمائی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہرین افراد کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔ آپ حضرات بھی خوب دل لگا کر پڑھیں اور محنت کریں تبھی ایک صالح معاشرے کی تشکیل میں آپ معاونت کر سکیں گے۔ ڈاکٹر شاداب علیم نے کہا کہ آج بڑا خوشی کا دن ہے۔ در اصل طالب علموں کی کامیابی اساتذہ کی کامیابی ہے۔یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ آج لڑکیاں بھی ہر میدان میں کامیابی حاصل کررہی ہیں اور اپنے گھر، خاندان اور اسکول و کالجز کا نام بھی روشن کررہی ہیں۔ میں آپ سبھی طالب علموں سے گزارش کرتی ہوں کہ تمام طلباء پڑھنے کے لیے پابندی سے اپنا کوئی ایک وقت مقرر کریں جس میں سنجیدگی سے نصابی کتابوں اور دیگر ضروری مقابلہ جاتی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ آپ کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ڈاکٹر الکا وششٹھ نے کہا کہ میں نیٹ کوالیفائی طالبات کو دلی مبارک باد دیتی ہوں اور جو طالب علم نیٹ کوالیفائی سے اس بار رہ گئے ہیں وہ دل چھوٹا نہ کریں اور زیادہ محنت کریں۔یقینا کامیابی ان کے بھی قدم چومے گی۔ ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ اردو میں معلم کا کیریئر بنانے کے لیے نیٹ کا امتحان طالب علم کے لیے نہایت ضرور ی ہے اور دور حاضر مقابلہ جاتی کا دور ہے۔ ایسے میں طالب علم اپنے مضمون کے لیے شب وروز محنت کریں، سیمینار میں مقالات پیش کریں، ادبی گفتگو میں حصہ لیں۔اپنے مضمون میں مہارت حاصل کریں پھر کوئی وجہ نہیں کہ آپ کوئی بھی مقابلہ جاتی امتحان کوالیفائی نہ کریں۔ اس موقع پر سعید احمد سہارنپوری، محمد شمشاد،محمد شاہ ویز عالم کے علاوہ طلبہ و طالبات موجود رہے۔












