نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج : اسلام اور پیغمبراسلامﷺ کے تعلق سے معاندین اسلام جو شکوک و شبہات مسلمانوں یا غیر مسلموں کے دل ودماغ میں پیدا کر رہے ہیں،انہیں سنجیدگی، متانت اور تحقیق کے ساتھ دور کیاجانا چاہیے ۔اس خیال کااظہار اتوار کو یہاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک قومی کانفرنس میں ملک کے معروف عالم دین ، محقق ، مصنف اور دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کے استاد حدیث و فقہ مولانا عتیق احمد بستوی نے کیا۔وہ علامہ سید سلیمان ندویؒ کے خطباتِ مدراس کی اشاعت کے 100 سال مکمل ہونے پر”تجدیدِ فکر و نظر کی ایک صدی اور موجودہ صورتِ حال” کے عنوان سے کانفرنس کا کلیدی خطبہ پیش کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے جس ماحول اور پس منظر میں اورجن مقاصد کے لئے خطبات مدراس پیش کئے تھے ، اس کے پیش نظر اس بات کی اہم ضرورت تھی اور ہے کہ اس طرح کے خطبات نہ صرف ایک بار اور ایک ہی بڑے شہر میں پیش کئے جاتے بلکہ ہر اہم اور بڑے شہروں میںہی نہیں متوسط شہروں اور قصبات میں بھی کم از کم سال بہ سال ایسے مؤثر اور فکر انگیر خطبات مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے پیش کئے جاتے جبکہ کانفرنس کے مہمان خصوصی ،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی سپریم گایڈنس کونسل کے سینئر رکن ڈاکٹر سید فاروق نے کہا کہ ہم کو محبت اور بھائی چارے سے جیناسیکھنا ہے۔ یہ بات خود رسول اللہ ﷺ نے سکھائی۔انہوں نے کہا کہ جب انسان کابچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ روتا ہے اور ہم نے بھی یہی سنا ہے کہ وہ روتا ہے لیکن یہ غلط ہے۔ بچہ روتا نہیں بلکہ وہ پکارتا ہےاور صرف انسان کا بچہ پکارتا ہے۔ جانور کابچہ خاموش پیدا ہوتا ہے۔ہمیں سمجھنا ہوگاکہ انسان کی فطرت میں اچھائی ہے، ایک دوسرے کی پکارہے۔ امن سے رہنا اور ایک دوسرے کی فکر کرناانسان کی فطرت ہے۔ ہمیں جینے کا حوصلہ رکھناہےاور بحث میں نہیں الجھناہے۔وہ کانفرنس افتتاحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔اجلاس کے صدارتی خطبہ میںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان اور مشہور صحافی و دانشور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیا س نےکہا کہ اس وقت کہا جا رہا ہے کہ ہم ایک بڑے شدیددور سے گزر رہے ہیں لیکن پچھلے صدی پر نگاہ ڈالیں تو ہم ا س سے بھی سخت حالات سے نبرد آزما رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امت اس طرح کے حالات سے اکثر و بیشتر گزرتی رہی ہے۔ اسلام کی دعوت کے مقابلے پر طرح طرح کے دعوتیں ابھرتی رہی ہیں ۔












