بہارشریف (ایم ایم عالم) ضلع صدر اسپتال میں خراب حالت کا ایک اور سنگین معاملہ پیر کے روز اس وقت سامنے آیا جب ایک شدید زخمی چھ سالہ بچی کے اہل خانہ علاج کے لیے ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں بھٹکتے رہے۔اس دوران نہ تو اس کی ڈریسنگ وقت پر کی گئی اور نہ ہی کسی ڈاکٹر نے پرائمری معائنہ کرانا ضروری سمجھا۔وارڈ بوائے اور مریض کی مدد کے نظام کے دعووں کے باوجود خاندان کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ضلع کے تھرتھری تھانہ علاقہ کے پینداپور گاؤں کے رہائشی راجیو کمار یادو اپنی چھ سالہ بیٹی سونالی کماری کے ساتھ صدر اسپتال پہنچے۔انہوں نے بتایا کہ بچی کے دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں چارہ کاٹنے والی مشین سے بری طرح کاٹ گئی ہیں۔بچی کو تشویشناک حالت میں صدر اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا،جہاں سے اسے پہلے ای ایم ٹی وارڈ اور پھر ایس این سی یو منتقل کیا گیا۔ اس دوران لڑکی کے دادا اسے گود میں اٹھائے اسپتال کے احاطے میں گھومتے رہے۔لواحقین کا الزام ہے کہ کئی گھنٹے اسپتال میں رہنے کے باوجود لڑکی کو ڈریسنگ نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی ڈاکٹر نے اس کی نبض چیک کی۔تاخیر سے مایوس ہو کر اہل خانہ لڑکی کو پرائیویٹ کلینک لے جانے لگے۔اسی دوران ایک صحافی نے ہیلتھ مینجر محمد عمران احمد کو فون کے ذریعے اس واقعے سے آگاہ کیا۔اطلاع ملتے ہی ہیلتھ مینیجر اور اسپتال انتظامیہ حرکت میں آگئی اور لڑکی کو فوری طور پر دوبارہ ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرایا گیا،جہاں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راجیو رنجن نے ذاتی طور پر علاج شروع کیا۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ ایسی غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود تمام عملے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو غیر ضروری طور پر بھٹکنے نہ دیا جائے۔پورے معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے اور جو بھی عملہ قصوروار پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اس سے پہلے بھی دو ہفتے قبل اے این ایم کی ایک طالبہ پر مناسب علاج نہ کرانے کا الزام لگایا گیا تھا اور اس کے ہم جماعت اسے گود میں اٹھا کر پاواپوری میڈیکل کالج لے گئے تھے۔دو دن پہلے بھی ڈی ایم کندن کمار نے صدر اسپتال کا معائنہ کیا تھا اور انتظامات کو دیکھ کر اسپتال انتظامیہ کی تعریف کی تھی۔












