دیوبند،سماج نیوز سروس: دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کا دو روزہ اجلاس حکیم کلیم اللہ علی گڑھی کی دعاء کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس میں متعدد اہم فیصلوں کے ساتھ اس سال سے دارالعلوم دیوبند میں آن لائن داخلہ فارم جمع کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ ہفتہ اور اتوار کو دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانے میں منعقد شوریٰ کے اجلاس میں ادارے کی مجموعی تعمیر و ترقی، تعلیمی نظام، نظم و نسق اور داخلی پالیسی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے دوران اراکین شوریٰ نے بدلتے تعلیمی حالات اور عصری تقاضوں کے پیش نظر داخلہ نظام کو سہل اور شفاف بنانے پر اتفاق کیاگیا،ساتھ ہی داخلہ فارم آن لائن جمع کرانے کا فیصلہ کیاگیا۔ مجلس شوریٰ نے اس سلسلے میں شعبہ تعلیمات اور شعبہ انٹرنیٹ کو مشترکہ طور پر جلد از جلد اس نظام کو مکمل طور پر فعال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس موقع پر اس فیصلے پر بھی مہر ثبت کی گئی کہ آئندہ تعلیمی سال سے اول عربی، دوم عربی اور سوم عربی میں نئے داخلوں کی پابندی عائد کر دی گئی۔ اسی طرح دورہ حدیث شریف میں طلبہ کی تعداد میں مزید اضافہ کرتے ہوئے 100؍ نشستیں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد اب دورہ حدیث میں 1200 طلبہ زیر تعلیم ہوں گے۔ شعبہ تعلیمات کی جانب سے سالانہ تعلیمی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی گئی، جس پر اراکین شوریٰ نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں تعلیمی ترقی کے ساتھ ساتھ محاسبی نظام، تنظیم و ترقی، تعمیرات اور دیگر داخلی معاملات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ تمام اہم شعبوں کے نظماء نے اپنے اپنے شعبوں کی رپورٹس پیش کیں۔ اجلاس میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی، صدر المدرسین مولانا سید ارشد مدنی، حکیم کلیم اللہ علی گڑھی، جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی، مولانا رحمت اللہ کشمیری، مولانا انوار الرحمن بجنوری، مفتی اسماعیل مالیگاؤں، مولانا عبدالصمد بنگال، مولانا محمد اشتیاق مظفر پوری، مولانا سید انظر حسین میاں دیوبندی، مولانا محمود راجستھانی، مولانا محمد عاقل گڑھی دولت، مولانا سید بلال عبدالحئی ندوی، مولانا ملک محمد ابراہیم مدراس، مفتی محمد صالح الحسنی اور مفتی احمد بزرگ گجرات شریک ہوئے۔












