نئی دہلی، (یو این آئی) سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ کسانوں کے مفادات کی بڑی بڑی باتیں کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے آج کسانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور امریکہ کے ساتھ 500 ارب ڈالر کی یکطرفہ تجارت کی راہ کھول دی ہے۔منگل کے روز بجٹ 2026-27 پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر یادو نے کہا کہ بجٹ سے پہلے اور بعد میں پورے ملک میں یہ بحث چل رہی تھی کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ہونے والا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت بتائے کہ اب کتنے ملک باقی بچے ہیں جن کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (آزادانہ تجارت کا معاہدہ) نہیں ہوا؟ انہوں نے روپے کی قدر میں کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ڈیل نہیں بلکہ ڈھیل ہوئی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کے سودیشی اور آتم نربھر (خود انحصاری) جیسے الفاظ سننے میں اچھے لگتے ہیں، لیکن امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد ان کے معنی بدل گئے ہیں۔ اگر 500 ارب کی یکطرفہ تجارت کھول دی گئی تو ہماری خود انحصاری کہاں جائے گی؟ انہوں نے بجٹ کو بے سمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے پاس کھوکھلی باتوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے غریبوں اور خواتین کی بات کرنا چھوڑ دی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ مفت اناج لے رہے ہیں، ان کی فی کس آمدنی کیا ہے؟ اتر پردیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن کی حکومت میں کوئی ایسی خاص اسکیم نہیں آئی جو لوگوں کو مرکزی دھارے سے جوڑ سکے۔ کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کرتی تھی لیکن آج کسان ایم ایس پی (کم از کم امدادی قیمت) کی ضمانت کے لیے ترس رہا ہے۔ انہوں نے مہنگائی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی حال رہا تو کسان لوہے پر پیتل چڑھا کر بھی اپنی بیٹی کو رخصت نہیں کر پائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کسانوں کے بجائے کچھ منتخب لوگوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ مسٹر اکھلیش یادو نے وارانسی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں منیکرنیکا گھاٹ پر اہلیہ بائی ہولکر کا مجسمہ بلڈوزر سے گرا دیا گیا اور سینکڑوں مندروں کو توڑا گیا۔ انہوں نے گنگا اور جمنا کی صفائی کے دعووں کو بھی حقیقت سے دور قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے یونیورسٹیوں میں تقرریوں میں ریزرویشن کے ساتھ کھلواڑ اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پسماندہ طبقات، دلتوں، آدیواسیوں اور اقلیتوں کو ان کا حق نہیں ملے گا، ؤ وکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان) کا خواب ادھورا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اندور میں آلودہ پانی پینے سے کتنے ہی لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں۔ ملک کا کوئی ایسا شہر نہیں ہے جہاں کوڑے کے ڈھیر موجود نہ ہوں۔












