ممبئی،پریس ریلیز،ہماراسماج:دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کے تحت گذشتہ چودہ سالوں سے جیل میں مقید ایک نوجوان کو آج بامبے ہائی کورٹ نے بڑی راحت دیتے ہوئے اس کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت کو منظور کرلیا، ملزم کا تعلق بہار سے ہے جسے اے ٹی ایس نے ممبئی سے گرفتار کیا تھا۔ ملزم ندیم اختر نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے 2019/ میں بامبے ہائی کورٹ میں ضمانت عرضداشت داخل کی تھی جس پر گذشتہ 7/ سالوں کے دوران بامبے ہائی کورٹ کے مختلف ججوں نے درجنوں مرتبہ سماعت کی۔گذشتہ ماہ بامبے ہائی کورٹ کی دو کنی بینچ کے جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس شیام چانڈک نے ملزم ندیم اختر کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے آج ظاہر کیا گیا۔ ندیم اختر کے دفاع میں سینئر ایڈوکیٹ آباد پونڈا اور ایڈوکیٹ مبین سولکر نے بحث کی تھی اور عدالت کو بتایا تھا کہ بامبے ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ابتک سیشن عدالت میں مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہوسکی جبکہ ملزم گذشتہ 14/ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے۔دفاعی وکلاء نے عدالت کو مزید بتایا تھا کہ سیشن عدالت میں دفاعی وکلاء نے مقدمہ کی ہر سماعت پر حصہ لیا جبکہ استغاثہ عدالت میں گواہوں کو پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔استغاثہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ وبھئے بگاڑے نے عدالت کو بتایا تھا کہ استغاثہ سیشن عدالت میں جلد از جلد سماعت مکمل کیئے جانے کی پابند ہے لیکن گواہان کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت میں تاخیر ہورہی، انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کی بجائے استغاثہ کو ایک چانس اور دینا چاہئے تاکہ وہ مقدمہ کی سماعت جلد ازجلد مکمل کرسکے۔ٹرائل مکمل کیئے جانے کے لیئے بار بار وقت طلب کرنے پر دو رکنی بینچ نے استغاثہ پر برہمی کا اظہار بھی کیا تھا اور زبانی تبصرہ بھی کیا تھا۔ فریقین کی دلائل کے سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ آج عدالت نے ملزم ندیم اختر کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کی اہم وجہ مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر اور طویل قید بتایا ہے۔تفصیلی فیصلہ عدالت بعد میں ظاہر کریگی۔ملزم ندیم اختر کی ضمانت عرضداشت بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے منظور ہونے پر صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ملزم کی ضمانت پر رہائی کے لیئے گذشتہ 7/ سالوں سے مسلسل کوشش کی جارہی تھی، انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے ملزم کو ناصر ف قانونی امداد فراہم کی بلکہ اسے تعلیمی وظیفہ بھی دیا جس کی وجہ سے وہ جیل میں رہتے ہو ئے قانون کی تعلیم مکمل کرسکا اور آج وہ جیل سے رہا ہونے سے قبل ہی اپنی وکالت کی تعلیم مکمل کرچکا ہے اوروہ بار کونسل کا ممبر ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ آج کے عدالتی فیصلے سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے جیل میں مقید دیگر قیدیوں کو بھی راحت ملیگی اور ان کی بھی ضمانت پر رہائی کے لیئے سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا،اس موقع پر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے دفاعی وکلاء کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ندیم اختر کے مقدمہ کی ہائی کورٹ میں پیروی کی۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ ملزم ندیم اختر کی جانب سے سپریم کورٹ میں کیویٹ داخل کیا جائے گا تاکہ اگر ریاستی سرکار بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتی ہے تو ملزم کے دلائل کی سماعت کے بغیر سپریم کورٹ یک طرفہ فیصلہ صادر نا کرسکے۔واضح رہے کہ ملزم ندیم اختر پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ملزم ندیم اختر سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک،کفیل احمد محمد ایوب انصاری،، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں، سیشن عدالت میں ابتک پونے دو سو سرکاری گواہان اپنے بیانات کااندراج کرچکے ہیں جبکہ استغاثہ نے گواہی دینے کے لیئے پانچ سو سے زائد گواہوں کو نامز د کیا ہے۔












