علی گڑھ،سماج نیوز سروس : جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی نے ”قدرتی طریقے سے شفا”کے عنوان پر ہائجین ہاسپٹل فار نیچروپیتھی،(چنمنگالور، کالی کٹ، کیرالہ) کے بانی ڈاکٹر پی اے کریم کے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا جس میں مہمان مقرر نے قدرتی علاج، طرزِ زندگی میں اصلاح اور انسدادی طب کے بنیادی اصولوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قدرتی علاج محض علامات کے نظم و نسق کے بجائے بیماری سے جڑے اسباب کی نشاندہی اور ان کے حل پر توجہ دیتا ہے۔ انہوں نے غذا، صفائی، جسمانی سرگرمی اور دماغی صحت کے کردار کو نمایاں کیا۔ استقبالیہ خطاب میں پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن، چیئرمین، شعبہ فارماکولوجی نے موجودہ صحت نظام میں انضمامی اور طرزِ زندگی پر مبنی طریقہ علاج کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیچروپیتھی اور شواہد پر مبنی قدرتی علاج کے طریقے دنیا بھر میں بیماریوں کی روک تھام، صحت کے فروغ اور طرزِ زندگی سے وابستہ امراض میں کمی کے حوالے سے تیزی سے تسلیم کیے جا رہے ہیں۔ سوال و جواب کے سیشن کی نظامت ڈاکٹر سارہ موسوی، کمیونٹی بلڈر ہیلتھ کوچ، اوٹاوا، کینیڈا نے کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی پر مبنی صحت کی تعلیم اور مریضوں کو بااختیار بنانا پائیدار صحت کی فراہمی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے علمی مکالمے روایتی طب اور ہمہ جہتی فلاحی طریقہ علاج کے درمیان خلا کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انجینئر مجیب اختر (کے این پی سی، کویت) نے ڈاکٹر کریم اور ڈاکٹر موسوی کے پیشہ ورانہ سفر کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اس سیشن کو علمی اعتبار سے مفید اور طبی برادری کے لیے نہایت موزوں قرار دیا۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر جاوید اختر، سابق ڈین، فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ نے کہا کہ انٹرڈسپلینری تعلیم اور متبادل صحت نظاموں کے تئیں کشادہ نظری، علمی اداروں کو مضبوط بناتی ہے۔












