لکھنؤ، (یواین آئی) اترپردیش اسمبلی میں پیش کیے گئے یوگی حکومت کے دسویں بجٹ پر سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے سخت تنقید کی ہے اور اسے الوداعی کا بجٹ قرار دیا ہے۔ بدھ کوصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ بجٹ کا حجم 9 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ دکھایا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقیقت میں یہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ سماج وادی پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اکھلیش یادو نے کہا کہ جب منہ کھولا تو برا بولا۔ یہ الوداعی بجٹ ہے اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی رخصتی طے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال بجٹ کا حجم فطری طور پر بڑھتا ہے، اس لیے صرف رقم میں اضافہ کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پچھلے بجٹوں کی رقم کا مکمل اور مؤثر استعمال کیوں نہیں ہو سکا۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت 50 فیصد سے زیادہ فنڈ بھی مؤثر طریقے سے خرچ نہیں کر سکی، جو انتظامی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایس پی سربراہ نے کہا کہ اگراتر پردیش کو تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے تو ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار تقریباً 90 لاکھ کروڑ روپے کے آس پاس ہونی چاہیے۔ موجودہ دعوؤں اور حقیقی اعداد و شمار کے درمیان بڑا فرق ہے، جس سے حکومت کی تیاری اور نیت پر سوال اٹھتے ہیں۔ ایم ایس ایم ای شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں تقریباً 92 لاکھ یونٹس ہیں، جن میں سے 82 لاکھ اب تک رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک دہائی میں اتنی بڑی تعداد میں یونٹس کا اندراج کیوں نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تجارتی معاہدوں اور پالیسی میں تبدیلیوں کا براہ راست اثر ایم ایس ایم ای اور کسانوں پر پڑے گا، لیکن بجٹ میں ان کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ اکھلیش یادو نے نوجوانوں کے روزگار، سرمایہ کاری کے دعوؤں، صحت خدمات اورنظم ونسق کے مسائل پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ زراعت میں تقریباً 57 فیصد، صحت میں 58 فیصد اور بنیادی تعلیم میں تقریبا 62 فیصد بجٹ ہی خرچ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب سابقہ منصوبوں کے لیے مختص رقم کا مکمل استعمال نہیں ہو سکا تو نئے اور بڑے بجٹ کے اعلانات سے عام لوگوں کو حقیقی فائدہ کیسے ملے گا۔ آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بجٹ کے دعوؤں اور اس کے عملی نفاذ کے درمیان فرق کو سمجھیں۔












