نئی دہلی، (یو این آئی ) ہندوستانی اسٹار اسپنر روی چندرن اشون نے پاکستانی اسپنر عثمان طارق کی حمایت کی ہے، امریکہ کے خلاف پاکستان کی 32 رنز کی جیت کے بعد نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 28 سالہ عثمان طارق کا منفرد ایکشن، جس میں رن اپ کے دوران ایک خاص وقفہ (Pause) اور سائیڈ آرم ریلیز شامل ہے، سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔اشون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس (ٹویٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی با لر کے ایکشن کی قانونی حیثیت کا فیصلہ صرف آئی سی سی سے منظور شدہ ٹیسٹنگ سینٹرز میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا”آن فیلڈ امپائرز کے لیے میچ کے دوران کہنی کے 15 ڈگری کے خم کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ جب تک باقاعدہ ٹیسٹنگ نہ ہو جائے، کسی با لر پر الزام تراشی کرنا درست نہیں ہے۔” رن اپ میں رکاوٹ کے حوالے سے اشون نے وضاحت کی کہ اگر یہ با لر کے باقاعدہ ایکشن کا حصہ ہے تو یہ قانوناً درست ہے۔دوسری جانب ہندوستانی وکٹ کیپر بیٹر شریوتس گوسوامی نے اس ایکشن پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کا موازنہ فٹبال سے کیا۔ انہوں نے لکھا: "فٹبال میں اب کھلاڑیوں کو پنالٹی کک کے دوران رکنے کی اجازت نہیں ہے۔ کرکٹ میں یہ کیسے درست ہو سکتا ہے؟ ایکشن ٹھیک ہے، لیکن گیند پھینکتے وقت اس طرح کا وقفہ (Pause) ناقابلِ قبول ہے۔ اسے جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔گوسوامی کے جواب میں اشون نے ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے قوانین با لرز پر بیٹرز کے مقابلے میں زیادہ سخت پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ ایک بیٹر بغیر بتائے ‘سوئچ ہٹ کھیل سکتا ہے، جبکہ ایک بالر کو اپنا ہاتھ تبدیل کرنے سے پہلے امپائر کو مطلع کرنا پڑتا ہے۔












