تہران،(ہ س)۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکہ کو جوہری مذاکرات کے عمل میں اسرائیل کے مبینہ تخریبی کردار کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ انہوں نے امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ بیدار رہیں اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو ان مذاکرات کے فریم ورک پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہ دیں۔علی لاریجانی نے ایکس پلیٹ فارم پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ بنجمن نیتن یاھو اب امریکہ جا رہے ہیں۔ امریکیوں کو دانشمندی سے کام لینا چاہیے اور انہیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اپنے ڈرامائی انداز اور چالوں سے اپنے سفر سے قبل یہ تاثر دیں کہ ‘میں امریکیوں کو جوہری مذاکرات کا فریم ورک سکھانے جا رہا ہوں’۔ انہیں اس تخریبی کردار کے حوالے سے چوکنا رہنا چاہیے۔بنجمن نیتن یاھو کل منگل کے روز واشنگٹن روانہ ہو ئے ہیں تاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے ساتھ انتہائی حساس جوہری مذاکرات کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکیں۔عمانی ٹیلی ویڑن سے گفتگو کرتے ہوئے لاریجانی کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکہ کے ساتھ جوہری مسئلے کے علاوہ کسی موضوع پر مذاکرات نہیں کیے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ آنے والا مرحلہ کم از کم سیاسی طور پر نئی صف بندی کا شاہد ہوگا۔ لاریجانی نے مزید کہا کہ اگلے مرحلے میں اسٹریٹجک تناؤ میں کمی کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اس وقت مذاکرات کے لیے تیار ہے جب وہ حقیقت پسندانہ ہوں۔اس سے قبل لاریجانی نے مسقط میں سلطانِ عمان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی جن کے ملک نے گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔عمان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق اس ملاقات میں ایرانی امریکی مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال اور دونوں فریقین کے درمیان ایک متوازن اور منصفانہ معاہدے تک پہنچنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں مذاکرات کی میز پر واپسی، نقطہ نظر کو قریب لانے اور خطے و دنیا میں امن و سکیورٹی کے قیام کے لیے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔لاریجانی نے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے بھی ملاقات کی جنہوں نے امریکیوں کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ لاریجانی نے ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام سے بھی بات چیت کی۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مسقط کے بعد لاریجانی اب قطر روانہ ہو گئے ہیں۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ مذاکرات امریکہ کی جانب سے طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کے سائے میں منعقد ہوئے ہیں۔ یہ جون سنہ 2024 میں ایران پر اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی اس جنگ کے بعد پہلے مذاکرات ہیں جس میں امریکی افواج نے بھی شرکت کی تھی۔تہران کی خواہش ہے کہ مذاکرات صرف اس کے جوہری پروگرام تک محدود رہیں اور میزائل پروگرام سمیت دیگر معاملات کو اس میں شامل نہ کیا جائے۔












