واشنگٹن،(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایسا نہ کرنا ایران کے لیے ’حماقت‘ ہو گی۔منگل کے روز ’فوکس بزنس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، اور ان کے خیال میں ایرانی حکام معاہدے کے خواہش مند ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ معاہدہ نہ کرنا ان کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے بھی ان کی جوہری صلاحیتوں کو نقصان پہنچا چکے ہیں اور اب بھی ایسا کر سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ معاہدہ ’اچھا‘ ہونا چاہیے جس میں جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کی کوئی گنجائش نہ ہو۔اسرائیلی "چینل 12″ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ایک نیا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب واشنگٹن اور تہران نئی محاذ آرائی سے بچنے کے لیے مذاکرات کی بحالی کی تیاری کر رہے ہیں۔ سلطنت عمان نے گذشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کی ہے، جسے ایرانی وزارت خارجہ نے مثبت قرار دیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز ’جارج واشنگٹن‘ یا’جارج ڈبلیو بش‘کو خطے میں تعینات کیا جا سکتا ہے، جبکہ فورڈ” کو بھی کیریبین سے روانہ کیا جا سکتا ہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ مذاکرات کا دائرہ کار صرف جوہری پروگرام تک محدود نہ رہے بلکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی لگام دی جائے، تاہم ایران کا موقف ہے کہ اس کا میزائل ذخیرہ ناقابلِ گفت و شنید ہے۔توقع ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بدھ کو واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیں گے کہ کسی بھی معاہدے میں ایرانی میزائلوں پر پابندیاں شامل ہونی چاہئیں۔ واشنگٹن کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایران 60 فی صد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دست بردار ہو جائے۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال مذاکرات کے پانچ دور ہوئے تھے جو یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر اختلاف کی وجہ سے معطل ہو گئے تھے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران کا دعویٰ ہے کہ اس نے افزودگی کی سرگرمیاں روک دی ہیں۔












