واشنگٹن،(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات سے قبل واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار یا بیلسٹک میزائل رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو تہران کے خلاف انتہائی سخت اقدامات کیے جائیں گے۔اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو ایران کے ساتھ ایک بہتر معاہدے کے خواہاں ہیں اور تہران بھی معاہدے کے لیے شدید خواہش رکھتا ہے۔ٹرمپ نے ویب سائٹ ایکسیس کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران نے جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد پہلی بار سلطنت عمان میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن یا تو کسی معاہدے تک پہنچے گا یا پھر گذشتہ بار کی طرح انتہائی سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگا۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ مذاکراتی عمل کا دوسرا دور آئندہ ہفتے منعقد ہوگا۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ایک بحری بیڑہ وہاں جا رہا ہے اور ممکنہ طور پر دوسرا بیڑہ بھی روانہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن اور اس کے حملے آور گروپ کے ساتھ جس میں لڑاکا طیارے، ٹوما ہاک میزائل اور متعدد بحری جہاز شامل ہیں، ایک دوسرا اسٹرائیک گروپ بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔’سی این این‘ کے ایک ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں اسرائیل نے ہنگامی منصوبے تیار کر لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل ایران کے خلاف عسکری کارروائی کی آزادی برقرار رکھنے پر بہ ضد ہے اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو صدر ٹرمپ کو ایران کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کریں گے۔بنجمن نیتن یاھو کل منگل کے روز واشنگٹن روانہ ہو ئیہیں جہاں وہ صدر ٹرمپ پر ایران کے ساتھ جاری حساس جوہری مذاکرات کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے زور دیں گے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں شروع ہوئے ہیں جب خطے میں امریکہ کی فوجی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔اسرائیل طویل عرصے سے یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ ایران میں یورینیم کی افزودگی کی تمام سرگرمیاں روکی جائیں۔ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کیا جائے اور خطے میں مسلح گروپوں کے ساتھ اس کے تعلقات منقطع کیے جائیں۔ ایران نے ہمیشہ ان مطالبات کو مسترد کیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے کے بدلے ہی اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کیلیے تیار ہے۔فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ گذشتہ ماہ ایران میں ہونے والے عوامی احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن یا خطے میں امریکی افواج کی تعیناتی نے ایرانی قیادت کو لچک دکھانے پر مائل کیا ہے یا صدر ٹرمپ پہلے سے پیچیدہ مذاکرات کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔












