دربھنگہ/ سمستی پور: محمد رفیع ساگر : سمستی پور کے ودیاپتی نگر تھانہ علاقے کے شیرپور گاؤں میں ڈپٹی جیلر کی اہلیہ کی مشتبہ موت نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ خاتون کی لاش گھر کے اندر پھندے سے لٹکی ہوئی حالت میں برآمد ہوئی، جس کے بعد مائکہ والوں نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے جہیز کے لیے مار دیے جانے کا سنگین الزام لگایا ہے۔متوفیہ کی شناخت شویتا کماری کے طور پر کی گئی ہے، جو نندو چودھری کی اہلیہ تھیں۔ نندو چودھری دربھنگہ جیل میں ڈپٹی جیلر کے عہدے پر تعینات ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے صدر اسپتال بھیج دیا گیا۔متوفیہ کے بھائی ششی بھوشن چودھری نے الزام لگایا کہ شویتا کی شادی 31 مئی 2023 کو ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی تھی اور شادی میں کار سمیت کافی سامان دیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود سسرال والے مسلسل ڈیزل گاڑی (فارنچونر) اور 10 لاکھ روپے اضافی جہیز کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کے مطابق چند دن پہلے ہی دھمکی دی گئی تھی کہ اگر مطالبہ پورا نہ ہوا تو جان سے مار دیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ 20 دن قبل بھی شویتا کے ساتھ مارپیٹ کی گئی تھی اور جب والد تھانے میں شکایت درج کرانے جا رہے تھے تو سسرالی رشتہ داروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔مائکہ والوں کا الزام ہے کہ خاتون کو قتل کرنے کے بعد اسے خودکشی کا رنگ دینے کے لیے لاش کو پھندے سے لٹکا دیا گیا۔ اہل خانہ نے شویتا کے شوہر، ساس، سسر اور دیور کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ واقعے کے بعد سسرال کے افراد کے فرار ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ودیاپتی نگر تھانہ کے تھانہ صدر سورج کمار نے بتایا کہ معاملہ جہیز ہراسانی سے جڑا ہوا معلوم ہو رہا ہے اور بھائی کی درخواست پر ڈپٹی جیلر کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ڈی ایس پی وویک کمار شرما نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں، جبکہ فارنسک ٹیم نے بھی جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کیے ہیں۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے معاملے کی تفتیش میں مصروف ہے۔دربھنگہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سنیہ لتا نے بتایا کہ ڈپٹی جیلر نندو چودھری 11 فروری کو 11 دن کی چھٹی لے کر گھر گئے تھے۔ درخواست میں انہوں نے بیٹی کی طبیعت خراب ہونے کا حوالہ دیا تھا۔ سپرنٹنڈنٹ کے مطابق نندو چودھری کو کبھی ذہنی دباؤ میں نہیں دیکھا گیا، تاہم واقعے کے بعد فون پر رابطہ کی کوشش کی گئی تو ان کا نمبر بند آ رہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔












