علی گڑھ،سماج نیوز سروس : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی علوم میں ”وراثت اور اسلام: ایک ریاضیاتی نقطہئ نظر“ کے عنوان پر خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت مفتی محمد زاہد علی خان نے کی۔ انہوں نے اسلامی نظامِ وراثت کو ایک متوازن اور خدائی رہنمائی پر مبنی نظام قرار دیا جو عدل و انصاف اور سماجی ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔ پروگرام کے کوآرڈینیٹر پروفیسر ضیاء الدین فلاحی نے وراثت کے بڑھتے ہوئے تنازعات کے تناظر میں اس موضوع کی عصری اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں وراثت میں مسلم خواتین کے حصے پر گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام بیٹی، بیوی اور ماں کی حیثیت سے خواتین کو متعین اور محفوظ حصہ عطا کرتا ہے۔ انھوں نے وراثت کے قوانین کے سلسلہ میں صنفی ناانصافی سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کیا۔ کلیدی خطبہ انجینئر انور عالم، ڈائریکٹر، اسلامک انہیریٹنس ریسرچ سینٹر، نئی دہلی نے پیش کیا۔ انہوں نے عملی مثالوں اور عددی توضیحات کے ذریعے وراثت کی تقسیم کے سائنسی اور ریاضیاتی اصولوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے ہبہ اور وصیت کے تصورات پر بھی روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ قرآن کے مقررہ حصوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ اس موقع پر انجینئر انور عالم کی کتاب ”اِنہیریٹینس شیئرز آف مسلم ویمن“ کا پروفیسر ضیاء الدین فلاحی، پروفیسر آدم ملک خان (چیئرمین، شعبہ اسلامی علوم)، ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی اور مفتی زاہد علی خان نے مشترکہ طور پر اجراء کیا۔ کلماتِ تشکر پیش کرتے ہوئے پروفیسر آدم ملک خان نے وراثت کے قوانین سے متعلق عوامی بیداری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔سوال و جواب کے سیشن پر پروگرام اختتام کو پہنچا۔












