دنیا کبھی کبھی خود اپنے خلاف گواہی دینے لگتی ہے۔ کبھی کوئی دستاویز، کبھی کوئی فائل، کبھی کوئی ویڈیو—اور کبھی محض ایک نام—پورے عہد کی اخلاقی کیفیت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ آج جس ایپسٹین فائل کا چرچا ہے، وہ محض ایک فرد یا چند شخصیات کا مسئلہ نہیں رہا؛ وہ طاقت، شہرت، اخلاق، قانون اور تہذیب کے باہمی تعلق کا سوال بن چکا ہے۔ وہ لوگ جنہیں ترقی، آزادی اور انسانی حقوق کا استعارہ بنا کر پیش کیا جاتا تھا، آج انہی کے گرد سنگین الزامات کا ہالہ ہے۔ ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں، بیانات گردش میں ہیں، اور وہ چہرے جو مثالی سمجھے جاتے تھے، سوالات کے کٹہرے میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں سب سے پہلا سوال جرم کا نہیں، تضاد کا ہے۔ زبان کچھ اور، عمل کچھ اور۔ دعویٰ کچھ اور، کردار کچھ اور۔
اسلام نے اسی تضاد کو جھوٹ کی پہچان قرار دیا ہے۔ سچ وہ ہے جس میں قول اور فعل ہم آہنگ ہوں۔ اگر باتیں بلند ہوں اور کردار پست، تو وہ محض خطابت ہے، صداقت نہیں۔ لیکن اس پورے منظرنامے میں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ جو ویڈیوز اس وقت منظر عام پر آ رہی ہیں، کیا وہ محض سچائی کے انکشاف کا نتیجہ ہیں؟ یا ان کے پیچھے کوئی بڑی سیاسی یا تہذیبی چال بھی ہو سکتی ہے؟ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں سچ ہمیشہ سادہ انداز میں سامنے نہیں آتا۔ کبھی سچ کو دبایا جاتا ہے، کبھی مخصوص وقت پر ظاہر کیا جاتا ہے، اور کبھی اسے کسی بڑے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ سوال اٹھانا سازشی ذہنیت نہیں، بلکہ سیاسی شعور ہے۔ ممکن ہے یہ انکشافات داخلی طاقت کی کشمکش کا حصہ ہوں۔ ممکن ہے کہ ایک گروہ دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے یہ فائلیں منظر عام پر لا رہا ہو۔ ممکن ہے کہ ایک تہذیبی بحران کو سنبھالنے کے لیے چند چہروں کو قربان کیا جا رہا ہو تاکہ نظام محفوظ رہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اصل حقائق ابھی مکمل طور پر سامنے نہ آئے ہوں۔ مغربی تہذیب کی بنیاد فردی آزادی پر رکھی گئی۔ آزادی یقیناً ایک قیمتی قدر ہے، مگر جب آزادی احتساب سے آزاد ہو جائے تو وہ بے راہ روی میں بدل جاتی ہے۔ اگر اخلاقی حدود کو محض ذاتی انتخاب کا نام دے دیا جائے تو پھر طاقتور افراد اپنی خواہشات کو بھی “حق” قرار دینے لگتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تہذیب اپنے اندر سے ٹوٹنا شروع ہوتی ہے۔ اگر یہ ویڈیوز واقعی کسی بڑی چال کا حصہ ہیں، تو وہ چال کیا ہو سکتی ہے؟
ممکن ہے کہ توجہ کو کسی اور بڑے بحران سے ہٹانے کے لیے یہ معاملہ اچھالا جا رہا ہو۔ ممکن ہے کہ عوامی غصے کو مخصوص افراد تک محدود کر کے پورے نظام کو بچایا جا رہا ہو۔ ممکن ہے کہ اخلاقی بحران کو محض چند شخصیات کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہو، تاکہ تہذیبی سوالات سے بچا جا سکے۔لیکن ان تمام احتمالات کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے: ظلم، ظلم ہے۔ درندگی، درندگی ہے۔ چاہے وہ کسی تہذیب میں ہو، کسی مذہب میں ہو یا کسی طبقے میں۔ اسلام کا موقف واضح ہے کہ جرم کو جرم کہا جائے گا، چاہے مجرم کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں اس پورے معاملے سے کیا سبق لینا چاہیے؟ سب سے پہلا سبق یہ کہ شخصیت پرستی خطرناک ہے۔ کسی کو آئیڈیل بنانے سے پہلے اس کے کردار کو پرکھنا ضروری ہے۔ ترقی اور شہرت کو دیانت کا معیار نہ بنایا جائے۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ کامیابی سے پہلے اخلاق کو دیکھو۔ دوسرا سبق یہ کہ احتساب کا نظام مضبوط ہونا چاہیے۔ صرف قانونی نہیں، اخلاقی احتساب بھی۔ گھروں میں، تعلیمی اداروں میں، معاشرے میں—ہر جگہ یہ شعور پیدا ہو کہ انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ تیسرا سبق یہ کہ تہذیبی خود اعتمادی قائم رکھی جائے۔ اگر کسی تہذیب میں بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی اخلاقی بنیادوں کو چھوڑ دیں۔ بلکہ یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم اپنے اصولوں کی قدر کو دوبارہ سمجھیں۔ چوتھا سبق یہ کہ جذباتی ردِعمل کے بجائے فکری تجزیہ کیا جائے۔ ہر خبر کو آخری سچ نہ سمجھا جائے، اور ہر انکشاف کو مکمل حقیقت نہ مانا جائے۔ تحقیق، توازن اور تدبر—یہی مؤمن کا راستہ ہے۔
اگر ہم پورے منظرنامے کو ٹھنڈے دل اور بیدار ذہن کے ساتھ دیکھیں تو یہ معاملہ صرف چند افراد کی اخلاقی گراوٹ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ ہمارے عہد کے فکری بحران، تہذیبی تضاد اور اخلاقی کمزوری کی علامت بن جاتا ہے۔ دنیا جس تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، اسی رفتار سے اس کے اندر اخلاقی سوالات بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے پردے ہٹا دیے ہیں، مگر کردار کی تعمیر نہیں کی۔ قانون نے دفعات بڑھا دی ہیں، مگر ضمیر کی بیداری کی ضمانت نہیں دی۔ اور آزادی نے وسعت تو دی ہے، مگر حدود کی پاسداری کا شعور کمزور کر دیا ہے۔ ایسے میں جب بڑے بڑے نام سوالوں کے دائرے میں آتے ہیں، جب وہ چہرے جنہیں مثال بنا کر پیش کیا جاتا تھا الزامات کی زد میں ہوتے ہیں، تو دراصل ایک پوری فکر کا احتساب شروع ہو جاتا ہے۔ یہ لمحہ محض حیرت کا نہیں، عبرت کا ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے کامیابی کا معیار درست متعین کیا تھا؟ کیا ہم نے دولت، شہرت اور طاقت کو سچائی اور امانت پر ترجیح دے کر خود اپنے لیے مسائل کی بنیاد نہیں رکھی؟ یہ بھی ممکن ہے کہ ان انکشافات کے پیچھے طاقت کی کشمکش ہو، سیاسی مفادات ہوں، یا کسی بڑے بیانیے کو تقویت دینے کی حکمت عملی ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالمی سیاست میں معلومات بھی ہتھیار بن جاتی ہیں۔ مگر اس احتمال کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ ظلم اگر ہوا ہے تو وہ ظلم ہی ہے، اور مظلوم اگر ہے تو اس کا حق ادا ہونا چاہیے۔ کسی ممکنہ چال کا اندیشہ ہمیں اصل اخلاقی سوال سے غافل نہیں کر سکتا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس سب سے کیا سیکھتے ہیں۔ کیا ہم صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے؟ کیا ہم محض تبصرے کریں گے اور پھر اگلی خبر کا انتظار کریں گے؟ یا ہم اپنے اندر جھانک کر یہ دیکھیں گے کہ کہیں ہمارے معاشروں میں بھی تو دوہرے معیار پروان نہیں چڑھ رہے؟ کہیں ہم بھی زبان سے کچھ اور اور عمل سے کچھ اور تو نہیں؟
اسلام نے جو اصول دیا وہ نہایت سادہ مگر گہرا ہے: قول اور فعل کی ہم آہنگی۔ سچ وہ ہے جو زندگی میں جھلکے۔ دیانت وہ ہے جو معاملات میں دکھائی دے۔ اگر ہم اس معیار کو اپنائیں تو نہ صرف افراد بلکہ نظام بھی مضبوط ہوگا۔ ہمیں اپنی نسلوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ آئیڈیل وہ نہیں جو اسکرین پر چمکے، بلکہ وہ ہے جو کردار میں سچا ہو۔ کامیابی وہ نہیں جو سرخیوں میں آئے، بلکہ وہ ہے جو حساب کے دن سرخرو کرے۔ یہ پورا واقعہ ہمیں قیامت کے تصور کی معنویت بھی یاد دلاتا ہے۔ جب دنیا کی عدالتیں کمزور پڑ جائیں، جب طاقت فیصلوں پر اثر انداز ہو جائے، جب سچائی کو دبایا جا سکے، تب ایک ایسی عدالت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو ابدی ہو، غیر جانبدار ہو، اور مکمل علم رکھتی ہو۔ قیامت اسی یقین کا نام ہے کہ انصاف ضائع نہیں ہوگا۔ کوئی آہ بے اثر نہیں جائے گی۔ کوئی ظلم بے حساب نہیں رہے گا۔ لہٰذا اس واقعے کو محض اسکینڈل کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ اسے اپنے فکری اور اخلاقی محاسبے کا موقع بنایا جائے۔ ہمیں تہذیبی اعتماد کے ساتھ مگر خود احتسابی کے جذبے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ نہ اندھی تقلید، نہ اندھا ردعمل—بلکہ متوازن شعور، گہرا تجزیہ اور مضبوط کردار۔
آخرکار بات وہی ہے کہ دنیا کا نظام کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو، سچائی کی بنیاد سادہ ہے۔ انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ طاقت عارضی ہے، منصب عارضی ہے، شہرت عارضی ہے۔ باقی رہنے والی چیز کردار ہے اور وہ فیصلہ جو ایک دن ہونا ہے۔ شاید اسی لیے دل کی گہرائی سے یہ صدا اٹھتی ہے کہ کل قیامت خود بتائے گی کہ قیامت کیوں ضروری تھی۔ وہاں نہ کوئی چال چلے گی، نہ کوئی پردہ باقی رہے گا۔ وہاں صرف سچ ہوگا—اور سچ ہی میزان ہوگا۔












