سپول، پریس ریلیز: بہار کی ممتاز علمی و تربیتی درسگاہ مدرسہ رحمانیہ سوپول ، ضلع دربھنگہ کی مجلس شوریٰ ،عاملہ وٹرسٹیز کی میٹنگ میں اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ عرصہ دراز سے مدرسہ رحمانیہ سوپول کے الحاق پر غور وخوض کیا جاتا رہا ہے ، ،مگر آج کی یہ مجلس متفقہ طور پر یہ تجویز منظور کرتی ہے کہ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول ضلع دربھنگہ کا بہاراسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے الحاق کو مکمل طور پر ختم کردیاجائے ، اور یہاں درس نظامی کے نظام تعلیم کے مطابق طریقہ تعلیم کو نافذ کیا جائے ،اور اس سلسلہ کی دفتری کاروائی شروع کر دی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے اس فیصلہ پر ثبات واستحکام عطافرمائے ، اور اس کو خیر و برکت کا ذریعہ بنائے ، مجلس شوریٰ کی یہ میٹنگ مؤرخہ ۱۱؍ فروری ۲۰۲۶ء روز بدھ، کو صدر مدرسہ، امیر شریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ و مغربی بنگال سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کی صدارت میں منعقد ہوئی ، جس میں دو سو سے زائد علماء ، دانشوران ، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی اور اپنے اہم مشوروں کو پیش کیا ۔اس موقع پر امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے چیف قاضی شریعت مولاناو مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب نے کہا کہ اس ادارہ نے دین کی جو عظیم خدمات انجام دی ہیں ، وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے ، اس کی حفاظت و صیانت اور اس کے فیض کو مزید روشن و تابناک بنانے کے لئے روشنی کا مینارہ رہا ہے ،امارت شرعیہ کے نائب قاضی شریعت مفتی محمد وصی احمد قاسمی نے کہا کہ یہ مدرسہ علاقہ کا ہی نہیں بلکہ پوری ریاست کے لیے روشنی کا مینارہ رہا ہے جہاں سے بڑے بڑے علماء و حفاظ فیضیاب ہو کر دین و ملت کی بیش بہا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مجلس کے معززاراکین نے مدرسہ کے معیار تعلیم کو مزید پرکشش اورمعیاری بنانے کے لئے یہاں درس نظامی کے طریقہ تعلیم کو جاری کرنے کی تجویز رکھی ، جناب مکھیا افضل علی خان صاحب جمالپور ، جناب مکھیا ابو الحیات صاحب سوپول ، جناب مکھیا امتیاز صاحب بلیا ،( سمیتی )جناب قیصر عالم صاحب جھگڑوا ، جناب مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب برداہا ، ڈاکٹر افتخار احمد صاحب سوپول ، مفتی محب اللہ صاحب قاسمی گیاری ، مولانا صفی الرحمٰن عرف ممتاز صاحب ہرسنگھ پور ، اظہار احمد صاحب جمالپور ، تمناسرپنچ بلیا، ماسٹر فیصل اعظم صاحب سوپول ، مفتی نظر الباری صاحب پالی ، چاند صاحب نائب چیئرمین افضلہ ، مولانا صلاح الدین صاحب قاسمی سمستی پور ،فیروزصاحب شیخ پورہ سوپول ، محمد کفیل صاحب عرف بدو صاحب نے کہا اس مدرسہ کو ہمارےآباؤ اجداد نے تبلیغ دین اور اشاعت علم کی خاطر قائم کیا ہے ، اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مدرسہ بورڈ سے الحاق کے بعد اس کے تعلیمی نظام میں کچھ کمزرویاں در آگئیں ۔ اس لیے ا س کے الحاق کو ختم کر دیا جائے۔البتہ جناب ماسٹر بدر عالم صاحب نے کہا کہ مدعوئین خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور مشورہ دیا کہ الحاق کو ختم نہ کیا جائےنیزمولانا عرفان سعیدی صاحب نے تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے طریقہ کار کی ضرورت بیان کی۔متفقہ طور پر اس تجویز کو منظور فرمایا جس میں الحاق کو ختم کرنے کی تجاویز آئی تھیں۔ مدرسہ کے قائم مقام مہتمم مولانا محمد شہاب الدین ندوی ازہری نے مدرسہ کی تعلیمی سرگرمیوں پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر مدرسہ امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی ہدایت پر دارالحکمت کا جدید شعبہ قائم کیا گیا جو تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی ایک نئی پہل ہے۔ اس کے خوشگورار اثرات طلبہ پر پڑ رہے ہیں اور بڑی دلچسپی سے بچے عربی انگریزی زبانوں میں مہارت حاصل کرر ہے ہیں ۔ اس موقعہ پر اس شعبہ کا ایک ادبی و ثقافتی پروگرام اسکرین پر دکھایا اور سنایا گیا۔رپورٹ پر شرکاء نے اطمنان خاطر کا اظہار کیا اور ستائش کی۔اس مجلس میں امارت شرعیہ سے مولانا رضوان احمد ندوی، مولانا محمد صابر حسین قاسمی، جناب فضل رحمٰں رحمانی ایچ او ڈی شعبہ صحافت جامعہ رحمانی، حافظ احتشام رحمانی شعبہ صحافت جامعہ رحمانی ،جناب حافظ شاہد رحمانی صاحب کے علاوہ مولانا مفتی توحید صاحب مظاہری ، جناب ماسٹر سید ثاقب نظامی خزانچی مدرسہ رحمانیہ سپول، مولانا محمد طفیل صاحب، مولانا قاضی محمد ابو شاہد قاسمی صاحب، مولانا مفتی محمد مجاہدالاسلام صاحب، مولانا محمد علی صاحب بورام کے علاوہ علاقہ کی متعدد سرکردہ شخصیات نے شرکت کی اور قیمتی آرا پیش کئے۔ مجلس کا آغاز مولانا محمد غفران رحمانی کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا۔ اور حضرت امیر شریعت کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔












