دیوبند ،سماج نیوز سروس :5 سے 12 فروری تک جاری رہنے والے اسپورٹس اینڈ کلچرل ویک کا اختتام علمی لیکچرز اور ایوارڈز کے ساتھ شاندار تقریبات کے ساتھ ہوا۔حکیم اجمل خاں کی یاد میں دیوبند یونانی میڈیکل کالج کے آڈیٹوریم میں یومِ یونانی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد ارشد انصاری (ایسوسی ایٹ پروفیسر، اے اینڈ یو طبیہ کالج، قرول باغ، دہلی) تھے، جبکہ تقریب کی صدارت پرنسپل ڈاکٹر محمد اسلم نے کی۔پروگرام کا آغاز ڈاکٹر یوشا قمر کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یوم یونی ہمارے علمی ورثے اور حکیم اجمل خان کی انمول خدمات کو یاد کرنے کا دن ہے۔ ہمیں اس ورثے کو اگلی نسلوں تک پہنچانا چاہیے۔مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد ارشد انصاری نے کہاکہ یونانی طب صرف علاج کا ایک روایتی طریقہ نہیں ہے، بلکہ زندگی کے لیے ایک مکمل نقطہ نظر ہے۔ اگر اسے جدید تحقیق اور سائنسی دستاویزات کے ساتھ ملایا جائے تو اسے دنیا میں نئی پہچان مل سکتی ہے۔انہوں نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر آج کے طلباء محنت اور تحقیق کو اپنا نصب العین بنائیں تو یونانی طب کا مستقبل بہت روشن ہے۔حکیم نظیف الرحمن نے اپنے طبی تجربات بیان کرتے ہوئے کہاکہ یونانی دن ہمیں اپنی علمی جڑوں سے جڑے رکھتا ہے اور نئی نسل کو ہماری ثقافت سے متعارف کرواتا ہے۔اس موقع پر حکیم عبداللہ کو ان کی طبی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ شیلڈ اور شال سے نوازا گیا۔ حکیم نظیف الرحمن کو ایک ابھرتے ہوئے یونانی معالج کے طور پر ایوارڈ شیلڈ اور شال سے نوازا گیا۔کھیلوں اور ثقافتی ہفتہ کی تقریبات5 سے 12 فروری تک جاری رہنے والے اسپورٹس اینڈ کلچرل ویک میں کرکٹ، بیڈمنٹن، ٹگ آف وار، کوئز اور کیرم سمیت متعدد کھیلوں کے مقابلے ہوئے۔ اس کے علاوہ تقریری مقابلے، پوسٹر پریزنٹیشنز اور ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے گئے۔اختتامی دن مختلف مقابلوں میں حصہ لینے والے طلباء کو اسناد سے نوازا گیا جبکہ کرکٹ، بیڈمنٹن، ٹگ آف وار، کوئز اور کیرم کے ونر اور رنر اپ کو ٹرافیاں اور اسناد سے نوازا گیا۔آرگنائزنگ سیکرٹری پروفیسر افضال احمد نے کہا۔یہ ہفتہ طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور اتحاد کو مضبوط کرنے کا ذریعہ تھا۔آخر میں پرنسپل ڈاکٹر محمد اسلم نے کلمات تشکر پیش کرتے ہوئے کہا۔علم اور کھیل دونوں ہی انسان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ ہمیں ایسے پروگراموں کا انعقاد کرتے رہنا چاہیے۔یونانی ڈے کی یہ تقریب علم، ثقافت اور کھیلوں کے حوالے سے بہت کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر عبداللہ اور ڈاکٹر افضال احمد نے مشترکہ طور پر کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر وسیم خان، ڈاکٹر فیصل، حکیم شفیع الرحمان، ڈاکٹر نازنین، ڈاکٹر محمد عارف، ڈاکٹر محمد علی، ڈاکٹر صابر حسن، ڈاکٹر شگفتہ فاطمہ، ڈاکٹر کاشف ناز، ڈاکٹر محمد خالد، ڈاکٹر اعجاز، سمیع، چاند، جتیندر اور دیگر عملہ موجود تھا۔












