موتیہاری ( پریس ریلیز)دنیا اور آخرت میں تمام تر کامیابیوں کی کلید تعلیم ہے اور طلبہ و طالبات ملک وقوم کے مستقبل ہیں۔ آج کے بدلتے حالات میں نسل نو کی صحیح تعلیم و تربیت نہایت ضروری ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار اریراج کے ہردیا میں قاضی امارت شرعیہ موتیہاری مفتی ریاض قاسمی نے ادارہ فاطمہ الزہراء للبنات کے زیر اہتمام منعقد بزم اطفال کا چوتھا تعلیمی بیداری کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا ہمیں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تقاضوں کے مطابق دیگر علوم میں بھی مہارت حاصل کرنی چاہئے۔ موصوف نے ادارہ فاطمہ الزہراء للبنات کے زیر اہتمام منعقد کانفرنس میں بچے اور بچیوں کے ذریعے پیش کئے گئے نعتیہ و تقریری مقابلہ اور کوئز کمپٹیشن کو دیکھ کر کا فی خوشی ومسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ادارہ کے بانی قاری محمد عالم اور ان کے معاون اساتذہ جنہوں نے طلبہ و طالبات کی بہتر تیاری میں تعاون کیا تھا انہیں مبارکباد پیش کیا۔ اس موقع سے لعل خان مسجد چکپٹی موتیہاری کے امام وخطیب حضرت مولانا منظر قاسمی نے اپنے خصوصی خطاب میں سماج ومعاشرہ کی کا مفہوم بتاتے ہوئے کہا کہ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل اچھے اور تعلیم یافتہ لوگوں کے بغیر ادھوری ہے۔ انسان ترقی کے بڑے منازل طے کرلے اگر سماج ومعاشرہ کے لئے وہ نفع بخش نہیں ہے تو اس کی ترقی بے سود سمجھی جاتی ہے۔ ایک صالح معاشرے کی تشکیل کے لئے تربیت یافتہ سماج ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے بھی کانفرنس میں بہتر مظاہرہ کرنے والے طلبہ وطالبات کو دعاؤں سے نوازا اور بانی ادارہ کو اس بہتر کارنامہ کے لئے مبارکباد پیش کیا۔ پروگرام کی صدارت مولانا جمیل اختر قاسمی نے فرمائ جبکہ نظامت کا فریضہ مولانا زاہد حسین ثاقبی نے ادا کیا۔ بچوں کے علمی ادبی اور ثقافتی کمپٹیشن میں ممتحن کا فریضہ مولانا ذکر اللہ قاسمی اور عزیر سالم نے ادا کیا جبکہ سار ے مقابلے جاتی ٹیسٹ کو سلیقے سے ترتیب دینے میں اریراج بلاک کے اردو مترجم محمد اویس ندوی نے اہم رول ادا کیا۔موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر سماجی کارکن بنٹو پانڈے، اریراج نگر کے چیئرمین رنٹو پانڈے، اور وائس چیئر مین احمد علی آزاد کے علاوہ ماسٹر صیوم انصاری، ضیاء الرحمن انصاری، انیس الحق شمسی، حافظ وقاری انصار الحق، مولانا ایوب، محمد آفتاب عالم شمسی، مولانا اختر حسین، محمد طفیل، تبریز انور، قیس حسینی ، اشرف علی خان، بشارت علی خان،قاری محمد ثاقب،حامد اقبال،عارف انصاری ،مسیح الزماں انصاری،مولانا بدر عالم، مولانا محمد عباس، حافظ زاہد حسین اور ماسٹر انور علی کے علاؤہ سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔












